اسلام آباد: پاکستان میں معاشی ترقی کی جانب دو اہم اقدامات منظر عام پر آئے ہیں۔ ایک طرف ایشائی ترقیاتی بینک (ADB) نے بلوچستان کے ریکوڈک منصوبے کے لیے 410 ملین ڈالر کے فنانسنگ پیکیج کی منظوری دے دی، جبکہ دوسری جانب پلاننگ کمیشن نے ملک کی پہلی ڈیجیٹل اقتصادی شماری کا تفصیلی ڈیٹا جاری کر دیا ہے۔
ریکوڈک منصوبہ: پاکستان کا معاشی گیم چینجر
ریکوڈک منصوبہ دنیا کے سب سے بڑے تانبے اور سونے کے غیر استعمال شدہ ذخائر میں سے ایک ہے، جسے کینیڈین کمپنی بیرک گولڈ (Barrick Gold) آپریٹ کرے گی۔ ADB کی جانب سے فراہم کردہ 410 ملین ڈالر کی فنانسنگ میں:
300 ملین ڈالر کے دو قرضے
110 ملین ڈالر کی مالی ضمانت شامل ہے
منصوبے کی کل لاگت 6.6 ارب ڈالر ہے، جس میں:
50% حصہ بیرک گولڈ کا
باقی حصہ وفاقی و صوبائی حکومتوں کے پاس ہے
پیداوار کا آغاز 2028 سے متوقع ہے، جس سے:
سالانہ 2 لاکھ میٹرک ٹن تانبا حاصل ہوگا (توسیع کے بعد 4 لاکھ ٹن)
70 ارب ڈالر تک فری کیش فلو پیدا ہونے کا امکان ہے
منصوبے کی متوقع عمر 37 سال یا اس سے زائد
دیگر عالمی مالیاتی ادارے بھی منصوبے میں دلچسپی لے رہے ہیں، جن میں شامل ہیں:
انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (IFC) – 700 ملین ڈالر فنڈنگ پہلے ہی ہو چکی
امریکا، کینیڈا اور جاپان کے مالیاتی ادارے بھی شراکت کی خواہش رکھتے ہیں
پاکستان کی پہلی ڈیجیٹل اقتصادی شماری: اہم اعداد و شمار جاری
پلاننگ کمیشن کے مطابق پاکستان میں اس وقت 71 لاکھ 4 ہزار کاروبار فعال ہیں، جن میں 2 کروڑ 53 لاکھ 44 ہزار سے زائد افراد برسر روزگار ہیں۔
صوبہ وار کاروبار اور ورک فورس:
پنجاب: 43 لاکھ کاروبار، 1.36 کروڑ افراد
سندھ: 13 لاکھ کاروبار، 57 لاکھ افراد
خیبرپختونخوا: 10 لاکھ کاروبار، 39 لاکھ افراد
بلوچستان: 3 لاکھ کاروبار، 13 لاکھ افراد
اسلام آباد: 86 ہزار کاروبار، 6 لاکھ افراد
کاروباری اقسام:
ریٹیل دکانیں: 27.8 لاکھ
ہول سیل دکانیں: 1.88 لاکھ
سروسز: 8.25 لاکھ
ہوٹلز: 2.56 لاکھ
اسپتال: 1.19 لاکھ (13,883 سرکاری، 1,05,956 نجی)
رہائش و عمارتیں:
رہائشی عمارتیں: 3.04 کروڑ
معاشی عمارتیں: 51 لاکھ
جھگیاں/خیمے/غاریں: 5.3 لاکھ
رہائشی و معاشی اکٹھے یونٹس: 11 لاکھ
تعلیمی ادارے:
اسکولز: 2.42 لاکھ (1.43 لاکھ سرکاری، 99 ہزار نجی)
کالجز: 11,568 (4,026 سرکاری، 6,942 نجی)
یونیورسٹیاں: 214 (123 سرکاری، 91 نجی)
مدارس: 36,331
تجزیہ: نئی راہیں، نیا اعتماد
ریکوڈک منصوبہ اور ڈیجیٹل اقتصادی شماری، دونوں اقدامات ملکی معیشت میں شفافیت، پالیسی سازی، اور سرمایہ کاری کے نئے دور کے آغاز کی نوید دے رہے ہیں۔ یہ اقدامات نہ صرف ملکی سطح پر ترقی کو ممکن بنائیں گے بلکہ عالمی برادری میں بھی پاکستان کا اعتماد بحال کریں گے۔





