اہم خبریںکرکٹکھیل

قومی ٹیم کی ناقص کارکردگی، بھاری معاوضے عوامی تنقید کا نشانہ بننے لگے

لاہور (اسپورٹس ڈیسک) – قومی کرکٹ ٹیم کی مسلسل ناقص کارکردگی کے بعد کھلاڑیوں کو دیے جانے والے بھاری معاوضے ایک بار پھر عوامی اور ماہرین کی شدید تنقید کی زد میں آ گئے ہیں۔ پی سی بی کی جانب سے نئے سینٹرل کنٹریکٹس کا مرحلہ رواں ماہ شروع ہونے جا رہا ہے، جس میں کئی اہم تبدیلیوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، خاص طور پر آئی سی سی آمدنی کے 3 فیصد حصے سے متعلق۔

صرف شکستیں، مگر معاوضے بدستور کروڑوں میں

پاکستان کرکٹ ٹیم کا حالیہ ریکارڈ انتہائی مایوس کن رہا ہے:

صرف 1 ٹیسٹ میچ میں فتح

11 میں سے صرف 2 ون ڈے میچز میں کامیابی

14 میں سے 7 ٹی ٹوئنٹی میچز میں ناکامی

کمزور سمجھی جانے والی ٹیموں بنگلہ دیش اور ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں شکست

ان مسلسل ناکامیوں کے باوجود کھلاڑیوں کے ماہانہ معاوضے اور میچ فیس میں کوئی کمی نہیں کی گئی، جس پر عوامی ردِعمل میں شدت آ رہی ہے۔

سینٹرل کنٹریکٹس: بھاری معاوضے کی تفصیلات
کیٹیگری ماہانہ تنخواہ ICC شیئر کل ماہانہ معاوضہ
A 45 لاکھ 20.7 لاکھ 65.7 لاکھ روپے
B 30 لاکھ 15.52 لاکھ 45.52 لاکھ روپے
C 10 لاکھ 10.35 لاکھ 20.35 لاکھ روپے
D 7.5 لاکھ 5.17 لاکھ 12.67 لاکھ روپے

اس کے علاوہ ہر کھلاڑی کو فی میچ:

ٹیسٹ: 12 لاکھ 57 ہزار 795 روپے

ون ڈے: 6 لاکھ 44 ہزار 620 روپے

ٹی ٹوئنٹی: 4 لاکھ 18 ہزار 584 روپے دیے جاتے ہیں۔

پی سی بی بجٹ میں بھی نمایاں اضافہ

پی سی بی نے مالی سال 2025-26 کے لیے ریٹینر شپ بجٹ میں 37 فیصد (319 ملین روپے) اضافہ کر کے اسے 1173.49 ملین روپے تک پہنچا دیا ہے۔ اس اقدام سے اشارہ ملتا ہے کہ بورڈ کھلاڑیوں کی مراعات میں بہتری کا ارادہ رکھتا ہے، حالانکہ کارکردگی اس کے برعکس ہے۔

اسپانسر لوگو کی رقم بھی التوا کا شکار

سینٹرل کنٹریکٹ کی شق کے مطابق کھلاڑیوں کو ٹیم شرٹ پر لگے اسپانسرز کی آمدنی کا کچھ حصہ ہر سیریز کے بعد دیا جانا تھا، لیکن ذرائع کے مطابق یہ ادائیگیاں بھی کئی ماہ سے رکی ہوئی ہیں۔ بعض بورڈ عہدیداران اس ادائیگی کو غیر ضروری سمجھتے ہیں، مگر موجودہ معاہدہ اسے لازم قرار دیتا ہے۔

کیا نئے کنٹریکٹس میں سختیاں آئیں گی؟

کرکٹ حلقوں میں یہ سوال زور پکڑ رہا ہے کہ اگر کارکردگی کا یہی حال رہا، تو نئے کنٹریکٹس میں کارکردگی سے مشروط ادائیگی، مراعات میں کٹوتی یا دیگر سخت شرائط شامل کی جا سکتی ہیں۔

پی سی بی ذرائع کے مطابق رواں ماہ کے اختتام تک نئے کنٹریکٹس جاری ہوں گے، جن میں اس بار 30 کھلاڑی شامل ہوں گے — جو گزشتہ سال کے 25 کھلاڑیوں سے زیادہ ہیں۔

نتیجہ: عوام کی توقعات اور کرکٹرز کی ذمہ داری

معاوضے اگر عالمی معیار کے برابر ہوں، تو کارکردگی بھی اسی معیار کی متقاضی ہوتی ہے۔ شائقین اور ماہرین کا مطالبہ ہے کہ کھلاڑیوں کو دی جانے والی مراعات کے ساتھ نتائج کی ضمانت بھی ہونی چاہیے، تاکہ قومی ٹیم کی ساکھ اور شائقین کا اعتماد بحال کیا جا سکے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button