راولپنڈی – 13 اگست 2025:
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت تنخواہ دار طبقے پر مزید مالی بوجھ ڈالنے کی ہرگز متحمل نہیں ہو سکتی، اور موجودہ مالی سال میں ٹیکس نیٹ کو وسعت دے کر معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے مربوط اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
راولپنڈی چیمبر آف کامرس میں یومِ آزادی اور معرکۂ حق کی مناسبت سے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ قومی سلامتی اور معاشی استحکام ایک دوسرے سے منسلک ہیں، اور ان دونوں کو مضبوط بنانے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر آگے بڑھنا ہوگا۔
اہم نکات:
تنخواہ دار طبقے کے لیے ریلیف کا اعلان
محمد اورنگزیب نے کہا:
"ہم تنخواہ دار طبقے پر مزید بوجھ نہیں ڈال سکتے۔ اب ہماری پوری توجہ ان شعبوں پر ہے جو ابھی تک ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں۔”
معاشی اشاریوں میں مثبت رجحان
روپے کی قدر میں استحکام
شرح سود میں کمی
اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کا نیا ریکارڈ
یہ تمام عناصر حکومت کی معاشی پالیسی کی کامیابی کی نشانیاں قرار دی جا رہی ہیں۔
نجکاری اور حکومتی اصلاحات میں پیش رفت
رواں مالی سال میں کئی سرکاری اداروں کی نجکاری متوقع
45 وزارتوں میں رائٹ سائزنگ
پنشن نظام میں اصلاحات پر کام جاری
ٹیکس اصلاحات اور ایف بی آر کی تبدیلی
وزیر خزانہ نے بتایا کہ ایف بی آر کی تنظیمِ نو براہ راست وزیراعظم کی نگرانی میں ہو رہی ہے۔
ٹیکس چوری روکنے، نان فائلرز کو نیٹ میں لانے، اور موجودہ نظام کی خامیاں دور کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات جاری ہیں۔
زرعی شعبے میں ریکارڈ قرض فراہمی
زرعی قرضے 2.5 ٹریلین روپے سے تجاوز کر گئے
گزشتہ سال ایک ٹریلین روپے کی واپسی
قرضوں میں 41 فیصد اضافہ ایک اہم چیلنج کے طور پر تسلیم کیا گیا
بین الاقوامی اعتماد کی بحالی
امریکہ کے ساتھ ٹیرف معاہدہ
مشرقِ وسطیٰ سے 1 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری
عالمی مالیاتی اداروں کی جانب سے حکومتی پالیسیوں کو سراہا گیا
نجی شعبے کو معیشت کا لیڈر بنانے کا عزم
وزیر خزانہ نے کہا:
"ہم ایسی معیشت چاہتے ہیں جس کے اثرات پائیدار ہوں، اور جس میں نجی شعبہ قیادت کرے۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر ملک بھر کے چیمبرز آف کامرس سے مستقل رابطے جاری ہیں تاکہ پالیسی سازی میں تاجر برادری کو مسلسل شامل رکھا جا سکے۔






