واشنگٹن (ویب ڈیسک) — سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک نئی مردم شماری کی تجویز دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ امریکہ میں غیر قانونی طور پر مقیم افراد کو اس میں شامل نہ کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ آئندہ مردم شماری کو "جدید حقائق” اور 2024 کے انتخابات سے حاصل کردہ اعداد و شمار کی بنیاد پر مرتب کیا جانا چاہیے۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں واضح طور پر کہا:
"جو لوگ ہمارے ملک میں غیر قانونی طور پر ہیں، انہیں مردم شماری میں شمار نہیں کیا جائے گا۔”
مردم شماری کی اہمیت کیا ہے؟
امریکہ میں مردم شماری ہر دس سال بعد کی جاتی ہے اور اس کا مقصد ملک میں موجود تمام افراد — خواہ وہ کسی بھی حیثیت سے ہوں — کا شمار کرنا ہوتا ہے۔
اس ڈیٹا کی بنیاد پر:
کانگریس میں ریاستوں کی نمائندگی کا تعین کیا جاتا ہے
الیکٹورل کالج ووٹس کی تقسیم کی جاتی ہے
اور اربوں ڈالرز کی وفاقی فنڈنگ مختلف ریاستوں و پروگرامز میں بانٹی جاتی ہے۔
لہٰذا مردم شماری میں معمولی تبدیلی بھی سیاسی، معاشی اور قانونی سطح پر دور رس اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
کیا یہ آئینی طور پر ممکن ہے؟
امریکی آئین کے تحت مردم شماری میں "تمام افراد” کو شمار کیا جانا لازم ہے، چاہے وہ شہری ہوں، قانونی مہاجر یا غیر قانونی مقیم افراد۔ ماضی میں ٹرمپ انتظامیہ نے 2020 کی مردم شماری میں شہریت سے متعلق سوال شامل کرنے کی کوشش کی تھی، جسے سپریم کورٹ نے مسترد کر دیا تھا۔
اس کے پیش نظر، قانونی ماہرین اس نئی تجویز کو آئینی اصولوں سے متصادم قرار دے رہے ہیں۔
سیاسی تجزیہ: مقصد کیا ہے؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کی یہ تجویز ان کی امیگریشن مخالف پالیسیوں کا تسلسل ہے، جو 2026 کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ریپبلکن ووٹرز کو متحرک کرنے کا ایک حربہ بھی ہو سکتی ہے۔
اگر غیر قانونی مہاجرین کو مردم شماری سے خارج کر دیا جائے تو:
بڑی ریاستوں جیسے کیلیفورنیا اور نیویارک کی کانگریسی نشستوں میں کمی ہو سکتی ہے
جبکہ قدامت پسند ریاستوں کو زیادہ سیاسی فائدہ حاصل ہو سکتا ہے
ردعمل کا منتظر معاملہ
تاحال وائٹ ہاؤس یا مردم شماری بیورو کی جانب سے اس بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، مگر امکان ہے کہ یہ تجویز امریکی سیاست، قانون اور انسانی حقوق کے حلقوں میں شدید بحث کو جنم دے گی۔






