ویب ڈیسک: امریکہ کی جانب سے بھارت پر اضافی 25 فیصد ٹیرف کے اعلان کے بعد بین الاقوامی تجارتی منظرنامے میں بڑی تبدیلیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارت نے روس سے خام تیل کی درآمد میں کمی کا عندیہ دے دیا ہے، جو امریکی تجارتی دباؤ کے تناظر میں ایک بڑی پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
بھارت نے امریکہ کو اشارہ دیا ہے کہ وہ روسی تیل کی خریداری میں مرحلہ وار کمی پر غور کر رہا ہے، تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات میں توازن اور ہم آہنگی پیدا کی جا سکے۔
امریکی اسلحہ کی خریداری مؤخر
ذرائع کے مطابق بھارت نے امریکہ سے جدید اسلحہ کی خریداری کے منصوبے کو عارضی طور پر روک دیا ہے۔ بھارتی حکام کا مؤقف ہے کہ جب تک امریکہ ٹیرف پالیسی پر وضاحت نہیں دیتا، اس وقت تک اسٹریٹجک دفاعی سودوں پر دوبارہ بات چیت ممکن نہیں۔
دباؤ یا سفارتی چال؟
تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت کے یہ اقدامات اس بات کا عندیہ ہیں کہ نئی دہلی سفارتی نرمی اختیار کر کے واشنگٹن کے ساتھ تعلقات میں استحکام لانا چاہتا ہے۔ جبکہ دوسری جانب امریکہ کی تجارتی پالیسی کا مقصد چین کے ساتھ ساتھ دیگر بڑے ممالک، بشمول بھارت، پر معاشی دباؤ بڑھانا ہے تاکہ واشنگٹن اپنے تجارتی مفادات کو یقینی بنا سکے۔
پس منظر
یاد رہے کہ امریکہ کی جانب سے بھارت پر حالیہ ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تجارتی کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا۔ تاہم بھارت کی جانب سے لچکدار رویہ اپنانے سے یہ اشارہ مل رہا ہے کہ دونوں ممالک اس تنازع کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے خواہاں ہیں۔






