راولپنڈی – پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی ہمشیرہ اور سماجی کارکن علیمہ خان نے کہا ہے کہ عمران خان کے بیٹے قاسم اور سلیمان پاکستان آنا چاہتے ہیں، اور حکومت کے پاس کوئی قانونی اختیار نہیں کہ انہیں روکے۔
عدالت میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ قاسم اور سلیمان نے برٹش پاسپورٹ پر ویزے کے لیے درخواست دے رکھی ہے، اور اب حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اس عمل میں رکاوٹ نہ ڈالے۔
"نائیکوپ کارڈ کے بغیر حکومت چھ ماہ تک تاخیر کر سکتی ہے، لیکن ہم روزانہ اس سلسلے میں کوشش کر رہے ہیں،” انہوں نے کہا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس حوالے سے طلال چوہدری سمیت دیگر حکومتی حکام سے بھی رابطہ کیا جا رہا ہے۔
"ہم ڈرنے والے نہیں”
علیمہ خان نے حکومت کی جانب سے درج کیے گئے مقدمات کو "بے بنیاد اور سیاسی انتقام” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا واحد جرم عمران خان کا پیغام عوام تک پہنچانا ہے۔
"کیا عمران خان کا پیغام عوام میں لانا جرم ہے؟” انہوں نے سوال کیا۔
"قتل کیس میں بھی میرے خلاف وارنٹ گرفتاری نکالے گئے ہیں، لیکن ہم گھبرانے والے نہیں۔ جب گرفتار کرنا ہو، کر لیں، ہم تیار ہیں،” انہوں نے پُرعزم انداز میں کہا۔
عدالتی نظام پر اعتماد کی بحالی کا مطالبہ
علیمہ خان نے عدلیہ سے اپیل کی کہ وہ عوامی دباؤ سے آزاد ہو کر صرف سچ کے ساتھ کھڑے ہوں۔
"اگر ہم مجرم ہیں تو سزا دیں، اگر بے گناہ ہیں تو انصاف دیں۔ انصاف نہ دینا بھی ایک ناانصافی ہے،” انہوں نے کہا۔
سیاسی دباؤ یا قانون کی عملداری؟
یہ پہلا موقع نہیں کہ پی ٹی آئی قیادت کی طرف سے مقدمات کو سیاسی انتقام قرار دیا جا رہا ہے، تاہم موجودہ صورتحال میں علیمہ خان کے بیانات سیاسی درجہ حرارت میں مزید اضافہ کر سکتے ہیں۔ عمران خان کے بیٹوں کی پاکستان آمد اور حکومت کے ممکنہ ردعمل پر آنے والے دنوں میں مزید پیش رفت متوقع ہے۔





