لندن (بین الاقوامی نیوز ڈیسک) – برطانیہ کی معیشت سے جڑی ایک بڑی پیش رفت میں، بینک آف انگلینڈ نے شرح سود میں 0.25 فیصد کمی کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد شرح سود 4.00 فیصد کی سطح پر آ گئی ہے۔ یہ کمی گزشتہ دو سال سے زائد عرصے کے دوران سب سے نچلی سطح پر دیکھی گئی ہے۔
مالیاتی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ ملک میں مہنگائی کے دباؤ میں کمی اور معاشی بحالی کے مثبت اشاروں کے باعث کیا گیا ہے۔
شرح سود میں کمی کے اثرات
فائدہ اٹھانے والے:
مارگیج ہولڈرز کے لیے خوشخبری، کیونکہ ماہانہ اقساط میں کمی متوقع ہے۔
کریڈٹ کارڈ صارفین اور دیگر قرض لینے والے افراد کو بھی سستے قرضوں کی سہولت حاصل ہو سکتی ہے۔
نقصان اٹھانے والے:
بچت کرنے والوں کے لیے منافع کی شرح میں ممکنہ کمی، جس سے سیونگ اکاؤنٹس اور فکسڈ ڈپازٹس کم فائدہ مند ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کی رائے
مالیاتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ:
"یہ قدم مالیاتی پالیسی میں نرمی کی طرف ایک واضح اشارہ ہے، اور اگر معاشی استحکام برقرار رہا تو مستقبل میں مزید کمی کا امکان بھی موجود ہے۔”
ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ شرح سود میں نرمی سے صارفین کا اعتماد بڑھے گا اور مارکیٹ میں سرمایہ کاری میں بھی بہتری آئے گی، جو مجموعی طور پر برطانیہ کی معیشت کے لیے مثبت ہے۔
پس منظر اور معاشی اشارے
گزشتہ برسوں کے دوران بڑھتی ہوئی مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے برطانیہ نے شرح سود میں متعدد بار اضافہ کیا تھا، تاہم حالیہ مہینوں میں افراطِ زر میں کمی، روزگار کے بہتر اشاریے اور کاروباری اعتماد میں بہتری کے بعد مرکزی بینک نے شرح سود میں نرمی کا فیصلہ کیا ہے۔






