اہم خبریںپاکستانتازہ ترین

پی ٹی آئی کا 14 اگست کا احتجاج 5 اگست سے بھی بدتر ہوگا، شیر افضل مروت کا سخت ردعمل

اسلام آباد (سیاسی رپورٹ) — پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے پارٹی قیادت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ 14 اگست کو ہونے والا احتجاج 5 اگست سے بھی برا انجام لے سکتا ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیر افضل مروت نے پارٹی کی حالیہ حکمت عملی اور اندرونی فیصلوں پر سوالات اٹھائے اور اعلان کیا کہ:

"جب تک پارٹی مجھ سے مشاورت نہیں کرے گی اور علیمہ خان کو سیاسی معاملات سے الگ نہیں کیا جائے گا، میں کسی احتجاج میں شریک نہیں ہوں گا۔”

"علیمہ خانم پوری پارٹی چلا رہی ہیں”
انہوں نے الزام عائد کیا کہ بانی چیئرمین عمران خان نے علیمہ خان کو سیاسی معاملات میں دخل اندازی سے روکا تھا، لیکن اس کے باوجود وہ پارٹی کے اہم فیصلے کر رہی ہیں۔

"بدنیتی پر مبنی فیصلوں نے پارٹی کو نقصان پہنچایا ہے، اب پورے فیصلے علیمہ خانم کی مرضی سے ہو رہے ہیں۔”

سلمان اکرم راجہ پر بھی اعتراض
شیر افضل مروت نے معروف وکیل سلمان اکرم راجہ کو پارٹی سیکریٹری جنرل بنانے کے فیصلے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ:

"سلمان اکرم 9 مئی کے بعد کہاں تھے؟ میں آنکھیں بند کرکے ان کے فیصلے نہیں مان سکتا۔ وہ پارٹی کے سیکریٹری جنرل نہیں بن سکتے۔”

شوکت یوسفزئی کا ردعمل
پی ٹی آئی رہنما شوکت یوسفزئی نے مروت کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ:

"کیا شیر افضل مروت واقعی پارٹی کا حصہ ہیں؟ پارٹی نے ایک اسٹریٹیجی بنائی ہے اور اس پر سب قائدین نے کام کیا ہے۔”

انہوں نے وضاحت کی کہ پارٹی کی حکمت عملی کے تحت ریلیاں اور جلسے مختلف شہروں میں ہوئے، بیرسٹر گوہر نے خیبرپختونخوا میں جلسہ کیا جبکہ اسلام آباد میں بھی ریلیوں کا پلان موجود ہے۔

احتجاجی حکمت عملی پر اختلافات واضح
شیر افضل مروت کے بیان سے پی ٹی آئی کی اندرونی صفوں میں بڑھتی ہوئی درار اور رائے کے اختلافات مزید نمایاں ہو گئے ہیں، خاص طور پر احتجاجی پالیسی اور قیادت کے کردار کے حوالے سے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button