رانا ثنااللہ کا پی ٹی آئی پر کڑا ردعمل: "قانون حرکت میں آیا، اب اعتراض بلاجواز ہے”
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) – وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی طرف سے حالیہ سیاسی تنازع پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی ماضی میں ہی مطالبہ کرتی تھی کہ اگر کوئی قصوروار ہے تو ثبوت پیش کیے جائیں اور سزا دی جائے، لیکن اب جب قانونی کارروائیاں اور سزائیں ہو رہی ہیں تو وہی لوگ سیاسی انتقام کا الزام لگا رہے ہیں۔
رانا ثنااللہ نے واضح کیا کہ 9 مئی کو ملک کے دفاعی اداروں کی تنصیبات پر کیے گئے منظم حملے ایک ناقابل تردید حقیقت ہیں، اور ان حملوں کی تحقیقات کے بعد جو بھی قانونی کارروائیاں کی گئی ہیں، وہ مکمل طور پر قانون کے مطابق ہیں۔
انہوں نے کہا، "پی ٹی آئی والوں نے خود کہا تھا کہ قانون حرکت میں آئے، مگر آج جب عدالتی فیصلے آ رہے ہیں اور سزائیں سنائی جا رہی ہیں، تو اب وہ اسے سیاسی انتقام قرار دے رہے ہیں۔”
جھوٹے مقدمات اور سیاسی مذاکرات
رانا ثنااللہ نے مزید کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے خلاف بھی جھوٹے اور من گھڑت مقدمات قائم کیے گئے، جن میں بعض کیسز میں سزائے موت تک کی دفعات شامل تھیں، تاہم ان تمام حالات میں بھی پارٹی نے سیاسی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے مذاکرات کو ترجیح دی۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی قیادت کبھی سنجیدہ مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہوئی۔
پارلیمانی ٹکٹ، نااہلی اور ضمنی انتخابات پر رانا ثنااللہ کا مؤقف
رہنما مسلم لیگ (ن) نے ضمنی انتخابات اور پی ٹی آئی اراکین کی نااہلی کے حوالے سے کہا کہ پارٹی کے پارلیمانی بورڈ کو ٹکٹ دینے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کارکنوں کو ٹکٹ دینے میں اولین ترجیح دی جاتی ہے، لیکن سیاسی حکمت عملی کے تحت کسی اور کو بھی ٹکٹ دیا جا سکتا ہے۔





