اسلام آباد: پشتونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے میپ) کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے مفاہمت، آئینی بالادستی اور سیاسی اتفاقِ رائے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ وقت آ چکا ہے کہ پاکستان کی تمام سیاسی قوتیں ایک نئے آغاز کے لیے اکٹھی ہوں۔
اپنے خطاب میں انہوں نے کہا:
"آئیں، ہم سب توبہ کریں اور ایک دوسرے کو معاف کریں۔”
ان کا کہنا تھا کہ ملک کو درپیش سنگین چیلنجز کا حل صرف آئین کی مکمل پاسداری، جمہوری اداروں کے احترام اور باہمی مکالمے سے ہی ممکن ہے۔
اسپیکر پر تنقید اور غیر جانبداری کا مطالبہ
محمود خان اچکزئی نے اسپیکر قومی اسمبلی سے مخاطب ہو کر کہا کہ وہ ایوان کے کسٹوڈین کی حیثیت سے اپنی غیر جانبداری بحال کریں۔
"آپ نے کہا کہ ایک ممبر نے آئین کی پاسداری نہیں کی، لیکن جو اراکین کو ایوان سے اٹھا کر لے گئے، ان کے خلاف بھی سوال اٹھنا چاہیے۔ اگر آپ کسٹوڈین رہنا چاہتے ہیں تو اس معاملے پر ایوان میں بحث کرائیں۔”
بانی پی ٹی آئی کی عوامی مقبولیت کا اعتراف
انہوں نے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کو ملک کا سب سے مقبول لیڈر قرار دیا اور زور دیا کہ تمام سیاسی قوتوں کو ایک ساتھ بیٹھ کر بات کرنی چاہیے۔
"نئی سیاست کی بنیاد یہی ہونی چاہیے کہ تمام فیصلے یہ ایوان کرے، نہ کہ کوئی اور ادارہ۔”
اس موقع پر اسپیکر قومی اسمبلی نے جواب میں کہا کہ ماضی کے پروڈکشن آرڈرز کا ریکارڈ نکال لیا جائے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا، اور انہوں نے محمود اچکزئی سے کہا کہ وہ اس عمل کا آغاز خود کریں۔
عالمی امور پر مؤقف
محمود خان اچکزئی نے بین الاقوامی صورتحال پر بات کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ پارلیمنٹ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے خلاف باقاعدہ قرارداد منظور کرے اور اسے عالمی عدالت انصاف میں لے جانے کا مطالبہ کرے۔
اختتامیہ: ایک نئے سیاسی عمرانی معاہدے کی ضرورت
خطاب کے آخر میں انہوں نے ملک میں ایک نئی سیاسی سوچ اور عملی تبدیلی کی ضرورت پر زور دیا، جس میں تمام صوبوں کو ان کے وسائل کا حق دیا جائے، اور پارلیمنٹ کو فیصلہ سازی کا مرکز بنایا جائے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ:
"اگر خانہ جنگی کی صورت پیدا ہوئی تو اس کی ذمہ داری شہباز شریف کی حکومت پر عائد ہوگی۔”





