تل ابیب / صنعا (عالمی خبر رساں ادارے):
اسرائیلی فوج نے اتوار کے روز دعویٰ کیا ہے کہ یمن سے داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل فضائی دفاعی نظام کے ذریعے کامیابی سے فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا۔ میزائل حملے کے بعد ملک کے کئی علاقوں میں سائرن بجائے گئے، جس سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
فوری ردعمل: دفاعی نظام پوری طرح متحرک
اسرائیلی فوج کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ میزائل حوثی باغیوں کی جانب سے داغا گیا تھا، جس کا بروقت پتہ چلا لیا گیا اور فضائی دفاعی نظام نے کامیابی سے اسے راستے میں ہی تباہ کر دیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر، فضائی دفاعی یونٹس مکمل الرٹ پر ہیں اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے مکمل تیاری میں ہیں۔ شہریوں سے تحمل اور ہوشیاری کی اپیل کی گئی ہے۔
حملوں کی تعداد میں اضافہ: مارچ سے اب تک 84 حملے
اسرائیلی فوج کے مطابق 18 مارچ 2025 سے اب تک یمن سے 67 بیلسٹک میزائل اور 17 ڈرون حملے کیے جا چکے ہیں، جن میں سے اکثریتی حملوں کو کامیابی سے روکا گیا۔ ان حملوں کا نشانہ زیادہ تر جنوبی اسرائیل اور بحیرہ احمر کے ساحلی علاقے رہے ہیں۔
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا پس منظر
حوثی باغی، جو ایران کے حمایت یافتہ ہیں، متعدد بار یہ اعلان کر چکے ہیں کہ ان کی کارروائیاں غزہ میں جاری اسرائیلی حملوں کے خلاف فلسطینیوں سے یکجہتی کا اظہار ہیں۔
یمن کی جانب سے کیے گئے حملے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، اگرچہ اسرائیل کی دفاعی صلاحیت مضبوط ہے، لیکن مسلسل حملوں سے عوامی اعتماد اور اندرونی سیکیورٹی پر دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔
عالمی ردعمل اور سفارتی کوششیں
ابھی تک اس تازہ حملے پر اقوام متحدہ یا بڑی عالمی طاقتوں کا کوئی فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ صورتحال جاری رہی تو خطے میں ایک بڑی جنگ کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔





