صنعاء: یمن کے ساحل کے قریب تارکینِ وطن کی ایک کشتی حادثے کا شکار ہو گئی، جس کے نتیجے میں کم از کم 27 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ درجنوں تاحال لاپتہ ہیں۔ ریسکیو آپریشن جاری ہے، اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ہلاکتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق حادثے کے وقت کشتی میں تقریباً 150 افراد سوار تھے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ امدادی ٹیموں نے 27 افراد کی لاشیں نکال لی ہیں، جبکہ درجنوں افراد کی تلاش جاری ہے۔
تاحال جاں بحق افراد کی قومیت یا شناخت کی تصدیق نہیں ہو سکی، تاہم ابتدائی اطلاعات کے مطابق ان میں افریقی اور ایشیائی ممالک کے تارکینِ وطن شامل ہو سکتے ہیں۔ بعض ذرائع کے مطابق گزشتہ ایسے واقعات میں پاکستانی شہریوں کی ہلاکتیں بھی رپورٹ ہو چکی ہیں۔
یہ حادثہ ان خطرناک سمندری راستوں کی سنگینی کو اجاگر کرتا ہے، جنہیں ہزاروں تارکین وطن بہتر مستقبل کی تلاش میں اختیار کرتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیمیں ان غیر قانونی، غیر محفوظ اور غیر منظم ہجرتی راستوں پر بارہا خدشات کا اظہار کر چکی ہیں۔
انسانی اسمگلنگ کے خلاف سخت اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے بین الاقوامی اداروں نے کہا ہے کہ غربت، تنازعات اور مواقع کی کمی لوگوں کو ان پرخطر راستوں پر مجبور کر رہی ہے۔
یہ واقعہ عالمی برادری کے لیے ایک لمحۂ فکریہ ہے کہ انسانی جانوں کے تحفظ اور پناہ کے متبادل محفوظ راستے فراہم کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔






