اہم خبریںتازہ تریندنیا

ٹرمپ کی جانب سے روس کو جنگ بندی کی نئی ڈیڈلائن، عالمی امن کی کوششیں تیز

واشنگٹن: عالمی سطح پر امن کے فروغ کے لیے اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس کو یوکرین کے ساتھ جاری جنگ ختم کرنے کے لیے 8 اگست تک کی نئی مہلت دے دی ہے۔ یہ اقدام عالمی برادری کی جانب سے کشیدگی کم کرنے اور مستقل امن کے قیام کی کوششوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ماسکو کو اب حتمی طور پر 8 اگست تک جنگ بندی کا عمل شروع کرنا ہوگا، بصورتِ دیگر امریکہ روس پر اضافی اقتصادی پابندیاں اور تجارتی ٹیرف عائد کرے گا۔ اس فیصلے کا مقصد فریقین پر دباؤ ڈال کر انہیں مذاکرات کی میز پر لانا اور عام شہریوں کی مشکلات کا خاتمہ ہے۔

ٹرمپ نے اس سے قبل 14 جولائی کو روس کو 50 دن کی مہلت دی تھی، مگر عالمی صورتِ حال اور خطے میں جاری انسانی بحران کو مدنظر رکھتے ہوئے اب یہ ڈیڈلائن 8 اگست تک محدود کر دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "امن ہماری اولین ترجیح ہے، اور ہم ہر وہ قدم اٹھائیں گے جو دنیا کو پرامن بنانے میں مدد دے۔”

اقوام متحدہ میں بھی امن کا پیغام
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں امریکی مندوب نے بھی اپنے خطاب میں روس اور یوکرین سے فوری جنگ بندی اور مذاکرات پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ امن کے قیام کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کرنے کو تیار ہے، اور اس تنازع کے حل کے لیے عالمی شراکت داروں سے مل کر کام کرے گا۔

عالمی برادری کی امیدیں
روس-یوکرین جنگ کے باعث عالمی سطح پر خوراک، توانائی اور انسانی تحفظ کے حوالے سے سنگین خدشات جنم لے چکے ہیں۔ ایسے میں امریکہ کی جانب سے سخت پیغام اور ڈیڈلائن ایک واضح اشارہ ہے کہ طاقتور ممالک اس تنازع کو پرامن طریقے سے حل کروانے کے لیے عملی اقدامات کر رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر روس اس موقع سے فائدہ اٹھاتا ہے تو نہ صرف جنگ رک سکتی ہے بلکہ خطے میں پائیدار امن کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button