اہم خبریںپاکستانتازہ ترین

اسٹیٹ بینک کا بڑا فیصلہ: شرح سود 11 فیصد پر برقرار، مہنگائی میں کمی کی امید

اسلام آباد: اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے یکم اگست سے شرح سود 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا اعلان کر دیا ہے۔ گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے بتایا کہ گزشتہ مالی سال اوسط افراط زر 4.5 فیصد رہا، جو کہ حکومت اور بینک کی متوقع حد سے کم ہے، جس سے معیشت میں استحکام کا پتہ چلتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خوراک کی قیمتوں اور کور انفلیشن میں واضح کمی دیکھی گئی ہے، جہاں کور انفلیشن 7.2 فیصد اور جون میں عمومی افراط زر 3.2 فیصد رہا۔ اپریل میں افراط زر میں کمی کے بعد مئی اور جون میں معمولی اضافہ ہوا ہے، تاہم رواں مالی سال میں مہنگائی کے اتار چڑھاؤ کی توقع ہے۔

توانائی کی قیمتوں میں تبدیلیوں کے بھی افراط زر پر اثرات مرتب ہوں گے۔ گزشتہ مالی سال درآمدات میں 11 فیصد اضافہ ہوا، جس کی بڑی وجہ نان آئل امپورٹس میں 16 فیصد اضافہ ہے، جو معیشت کی سرگرمیوں کا مظہر ہے۔

گورنر نے مزید کہا کہ ترسیلات زر اور برآمدات میں بھی بہتری آئی ہے، خاص طور پر ترسیلات زر میں 8 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے، جو ملکی معیشت کے لیے خوش آئند ہے۔ اس کامیابی کے باعث کرنٹ اکاؤنٹ 14 سال بعد سرپلس میں آ گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سال 2022 میں جاری کھاتے کا خسارہ 17.5 ارب ڈالر تھا، لیکن 2023 میں جی ڈی پی کا 0.5 فیصد سرپلس ریکارڈ کیا گیا جو گزشتہ 22 سالوں میں سب سے زیادہ ہے، جو پاکستان کی معاشی مضبوطی کی علامت ہے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button