باجوڑ سانحے پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا اہم اقدام، متاثرین کے لیے بڑے امدادی پیکیج کا اعلان
پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے باجوڑ واقعے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے متاثرین کے لیے خطیر امدادی پیکیج کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور صوبے میں پائیدار امن کے لیے فیصلہ سازی میں مقامی مشاورت کو بنیادی حیثیت دی جائے گی۔
وزیراعلیٰ کی زیر صدارت امن و امان کی صورتحال پر پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی اور اعلیٰ سطحی حکام کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، جس میں باجوڑ سانحے سمیت صوبے میں سیکیورٹی کے مجموعی حالات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
علی امین گنڈاپور نے ویڈیو پیغام میں کہا،
"ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنا چاہتے ہیں، لیکن یہ جنگ صرف عوام کے اعتماد اور مشاورت سے جیتی جا سکتی ہے۔ ہمیں ایسی پالیسیاں بدلنا ہوں گی جن سے شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کی بلاوجہ جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔”
وزیراعلیٰ نے شہید شہریوں کے لواحقین کے لیے فی کس ایک کروڑ روپے اور زخمیوں کے لیے 25 لاکھ روپے امداد کا اعلان کیا، جبکہ سیکیورٹی اہلکاروں کے لیے بھی اسی پیمانے پر مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔
ضم شدہ اضلاع میں مقامی مشاورت سے امن قائم کرنے کا فیصلہ
وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ ضم شدہ اضلاع میں اگلے دس دنوں کے اندر مقامی جرگے منعقد ہوں گے، جن میں مشران، منتخب نمائندے اور دیگر اسٹیک ہولڈرز شریک ہوں گے۔ بعد ازاں ایک گرینڈ جرگہ بلایا جائے گا جس کی سفارشات کو سیکیورٹی اداروں کے ساتھ شیئر کیا جائے گا تاکہ مؤثر پالیسی سازی کی جا سکے۔
انہوں نے کہا،
"ہمیں موجودہ سیکیورٹی پالیسیوں، خصوصاً ‘ایکشن ان ایڈ آف سول پاور’ جیسے اقدامات پر سنجیدہ تحفظات ہیں، جن پر یکم اگست کو اسمبلی میں تفصیلی بحث کی جائے گی۔”
عوامی مینڈیٹ کا احترام، عوامی مسائل اولین ترجیح
وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ کوئی بھی کرفیو یا دفعہ 144 محکمہ داخلہ کی منظوری کے بغیر نافذ نہ کی جائے تاکہ عوام کو اعتماد ہو کہ ان کی منتخب حکومت ان کے ساتھ کھڑی ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کے ویژن کے تحت عوامی حقوق کا دفاع کیا جائے گا اور تمام فیصلے عوام کی بہتری، مشاورت اور اعتماد کے ساتھ کیے جائیں گے۔





