علیمہ باجی کو بھی احتجاج کی ناکامی کا اندازہ تھا، 5 اگست کا شو فلاپ ہو چکا: عظمیٰ بخاری
لاہور: وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے 5 اگست کو ہونے والے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے احتجاج کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مظاہرہ آغاز سے ہی ناکام تھا، اور حتیٰ کہ علیمہ خان نے بھی اس کی ناکامی کی پیشگی پیشگوئی کر دی تھی۔
عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا:
"جب مہاتما (عمران خان) کے اپنے بچے احتجاج میں شامل نہیں ہو رہے تھے تو انقلاب کیسے آنا تھا؟ یہ صرف سوشل میڈیا کا غبارہ تھا، جو جلد ہی بیٹھ گیا۔”
خیبرپختونخوا میں مالی بے ضابطگیوں کا الزام
اپنے بیان میں انہوں نے خیبرپختونخوا کے بلدیاتی اداروں میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ:
"وہاں عوامی فنڈز کی بندر بانٹ ہو رہی ہے، لیکن پی ٹی آئی کی قیادت جو خود کرپشن کے الزامات کی زد میں ہے، دوسروں کو چور کہتی ہے۔”
9 مئی کے واقعات پر سخت مؤقف
وزیر اطلاعات نے 9 مئی کے واقعات کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ جو لوگ شہداء کے مجسمے جلانے جیسے اقدامات میں ملوث رہے، ان کا دفاع کرنا کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے باعثِ شرم ہے۔
"یہ ریاستی اور اخلاقی حدود کی خلاف ورزی ہے، اور ایسے عناصر کے ساتھ نرمی برتنا ملک دشمنی کے مترادف ہے۔”
سیاسی ماحول میں تناؤ برقرار
عظمیٰ بخاری کے یہ بیانات ایسے وقت پر سامنے آئے ہیں جب ملک میں سیاسی درجہ حرارت بلند ہے، اور 5 اگست کے احتجاج کو لے کر سیاسی جماعتوں کے درمیان بیانیاتی محاذ آرائی شدت اختیار کر چکی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق، یہ موضوع آنے والے دنوں میں بھی سیاسی بحث کا مرکز بن سکتا ہے۔





