لندن: پاکستان تحریک انصاف کے بانی و سابق وزیرِاعظم عمران خان کے صاحبزادگان، قاسم خان اور سلیمان خان، امریکا کا اہم دورہ مکمل کرنے کے بعد لندن واپس پہنچ گئے ہیں۔ اس دورے کا مقصد اپنے والد کی رہائی اور پاکستان میں جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے عالمی سطح پر حمایت حاصل کرنا تھا۔
ذرائع کے مطابق، قاسم اور سلیمان نے اپنے قیام کے دوران امریکی کانگریس کے متعدد بااثر اراکین سے ملاقاتیں کیں، جن میں بریڈ شرمین، مائیک لیون، گریگوری میکس، جم کوسٹا، ٹیڈ لیو، بلی سن اور دیگر شامل تھے۔ ان ملاقاتوں میں پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال، سیاسی آزادیوں پر پابندیاں، اور عمران خان کی موجودہ قانونی پوزیشن پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
سیاسی و سفارتی حلقوں میں دورے کو مثبت پیش رفت قرار
اگرچہ انہیں امریکی انتظامیہ کے اعلیٰ سطحی حکام سے براہِ راست ملاقات کا موقع نہیں ملا، تاہم ان کا دورہ امریکی سیاسی اور سفارتی حلقوں میں قابلِ ذکر توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔ مبصرین کے مطابق، یہ ملاقاتیں نہ صرف پاکستان کے سیاسی حالات کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں بلکہ عمران خان کے خلاف کارروائیوں کے پسِ منظر کو بھی عالمی تناظر میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔
سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر پاکستان آمد مؤخر
ذرائع کا کہنا ہے کہ قاسم اور سلیمان نے پاکستان آ کر عوامی رابطہ مہم شروع کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا، تاہم موجودہ سیاسی کشیدگی اور سیکیورٹی خدشات کے باعث بانیٔ پی ٹی آئی نے انہیں فی الحال پاکستان نہ آنے کا مشورہ دیا ہے۔
سیاسی جدوجہد میں خاندان کا فعال کردار برقرار
قاسم اور سلیمان کی جانب سے عالمی سطح پر کی جانے والی یہ کوشش اس بات کی عکاس ہے کہ عمران خان کے خاندان کی طرف سے سیاسی جدوجہد جاری ہے اور ان کا موقف ہے کہ پاکستان میں جمہوری اقدار اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی برادری کو کردار ادا کرنا چاہیے۔






