لاہور: حکومتِ پنجاب نے صوبے کے مختلف اضلاع میں صاف اور محفوظ پانی کی فراہمی کے لیے بڑے پیمانے پر فلٹریشن پلانٹس نصب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر ہاؤسنگ اینڈ اربن ڈویلپمنٹ پنجاب بلال یاسین کی زیر صدارت صاف پانی اتھارٹی ہیڈکوارٹرز میں ہونے والے اہم اجلاس میں اس منصوبے کی منظوری دی گئی۔
اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ نئے پروگرام کے تحت 963 فلٹریشن پلانٹس نصب کیے جائیں گے، جب کہ پوٹھوہار ریجن میں چھوٹے ڈیموں سے صاف پانی کے منصوبے شروع کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ، 2 سرفیس واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس بھی منصوبے کا حصہ ہوں گے، جن سے شہریوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔
وزیر ہاؤسنگ بلال یاسین نے کہا کہ ڈیرہ غازی خان، راجن پور، بہاولپور اور رحیم یار خان جیسے پسماندہ علاقوں میں جلد منصوبوں پر کام شروع کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ منصوبے مرحلہ وار مکمل ہوں گے اور سالانہ بنیادوں پر مزید پانی کی اسکیمیں متعارف کرائی جائیں گی۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر صاف پانی کی فراہمی کے لیے پائیدار اور مؤثر منصوبہ بندی کی جا رہی ہے تاکہ ہر شہری تک صاف پانی کی رسائی ممکن ہو۔
سی ای او صاف پانی اتھارٹی نے اجلاس کو بتایا کہ منصوبوں کی تکمیل میں شفافیت، میرٹ اور معیار کو یقینی بنایا جائے گا، اور اخراجات میں کمی کے لیے ان فلٹریشن پلانٹس کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔






