اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے نوجوانوں کو روزگار کے قابل بنانے اور ملک میں مہارت پر مبنی معیشت کو فروغ دینے کے لیے پاکستان کے پہلے ’’اسکلز امپیکٹ بانڈ‘‘ کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔ یہ فیصلہ نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کے روڈ میپ پر ہونے والے ایک اعلیٰ سطح اجلاس میں کیا گیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ:
"یہ جدید مالیاتی ماڈل ملک کے نوجوانوں کو عالمی معیار کا ہنر دے کر روزگار سے جوڑنے کے لیے نجی سرمایہ کاری کو راغب کرے گا۔ ہم انہیں صرف ہنر مند نہیں بنا رہے، بلکہ دنیا بھر میں کامیاب روزگار کے مواقع بھی فراہم کریں گے۔”
جدید مالیاتی ماڈل کی وضاحت
اسکلز امپیکٹ بانڈ ایک پرفارمنس بیسڈ فنانسنگ ماڈل ہے، جس کے تحت نجی سرمایہ کار نوجوانوں کی تربیت اور ہنر مندی میں سرمایہ لگاتے ہیں، اور جب مطلوبہ اہداف حاصل ہو جاتے ہیں تو انہیں حکومت یا بین الاقوامی ڈونرز کی جانب سے ادائیگی کی جاتی ہے۔
یہ ماڈل نہ صرف سرکاری وسائل پر بوجھ کم کرتا ہے بلکہ تربیت کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے مقابلے کی فضا بھی پیدا کرتا ہے۔
مقامی و بین الاقوامی روزگار پر توجہ
وزیراعظم نے ہدایت دی کہ بیرون ملک روزگار کے لیے خصوصی طور پر ہنرمند افرادی قوت کی تیاری کو ترجیح دی جائے تاکہ پاکستان کے نوجوان عالمی منڈی میں بھی مؤثر کردار ادا کر سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ ہر دو ماہ بعد روڈ میپ پر پیشرفت کا ذاتی طور پر جائزہ لیں گے۔
ماہرین کی رائے
معاشی ماہرین اور تعلیمی حلقے اس اقدام کو ایک انقلابی پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق، یہ بانڈ نہ صرف بے روزگاری میں کمی کا ذریعہ بنے گا بلکہ پاکستانی افرادی قوت کو جدید مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو گا۔






