اہم خبریںپاکستانتازہ ترین

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار: "بھارت کی بالادستی کی کوششیں ناکام، خطے میں پائیدار امن کے لیے مشترکہ کردار ناگزیر”

واشنگٹن – نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار ترقی اور امن کا راستہ صرف تبادلہ خیال، تعاون اور باہمی احترام سے ہو کر گزرتا ہے۔ انہوں نے بھارت کی خطے میں بالادستی قائم کرنے کی کوششوں کو "دفن شدہ حقیقت” قرار دیتے ہوئے کہا کہ 7 سے 10 مئی کے دوران ہونے والی پیش رفت نے اس بیانیے کو مسترد کر دیا ہے۔

اسحاق ڈار امریکی تھنک ٹینک "اٹلانٹک کونسل” سے خطاب کر رہے تھے جہاں انہوں نے جنوبی ایشیا میں جاری کشیدگی، مسئلہ کشمیر، بھارت کے یکطرفہ اقدامات اور پاکستان کے سفارتی مؤقف پر کھل کر بات کی۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے حالیہ اجلاس میں عالمی برادری نے پرامن تنازعات کے حل کی ضرورت پر غیرمعمولی اتفاق رائے ظاہر کیا ہے۔ ان کے مطابق، جنوبی ایشیا میں ترقی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک دیرینہ تنازعات کا حل نہیں نکالا جاتا۔

مسئلہ کشمیر بنیادی تنازع
وزیر خارجہ نے مسئلہ کشمیر کو پاکستان اور بھارت کے درمیان بنیادی رکاوٹ قرار دیا اور کہا کہ بھارت کے یکطرفہ اقدامات – خاص طور پر 5 اگست 2019 کے بعد – اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں۔

انہوں نے بھارت کی جانب سے پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف عالمی رائے کو گمراہ کرنے کی ایک منظم کوشش ہے۔ انہوں نے مثال دی کہ بھارت نے رواں برس 22 اپریل کو پہلگام واقعے پر بھی بلاجواز پاکستان پر الزام لگایا۔

سفارتی کوششوں کا اعتراف
اسحاق ڈار نے کہا کہ مئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی انتہائی خطرناک سطح پر پہنچ گئی تھی، لیکن بیک چینل سفارت کاری، عالمی ثالثی، بالخصوص امریکہ اور دوست ممالک کی مداخلت سے صورتحال میں بہتری آئی۔ انہوں نے امریکی صدر اور سیکریٹری اسٹیٹ روبیو کے کردار کو سراہا اور کہا کہ پاکستان جنگ بندی کے عملدرآمد پر پوری طرح پرعزم ہے۔

خطے میں رابطہ کاری: ٹرانس افغان ریلوے
وزیر خارجہ نے ایک بڑی سفارتی اور تجارتی پیش رفت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 17 جولائی کو کابل میں پاکستان، افغانستان اور ازبکستان کے درمیان "ٹرانس افغان ریلوے معاہدے” پر دستخط ہوئے، جو خطے میں معاشی تعاون اور روابط کی علامت ہے۔

امن کے لیے رویوں میں تبدیلی ضروری
خطاب کے اختتام پر اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ جنوبی ایشیا میں امن صرف اسی صورت ممکن ہے جب تمام فریقین، بالخصوص بھارت، سیاسی بالادستی کے بجائے تعمیری مکالمے اور بین الاقوامی اقدار کو ترجیح دیں۔

انہوں نے کہا:

"اگر ہم انصاف، قانون اور پرامن مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں تو جنوبی ایشیا کے عوام کو ایک روشن اور پرامن مستقبل دیا جا سکتا ہے۔”

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button