اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کے بیٹے قاسم خان اور سلمان خان کی پاکستان آمد کی تصدیق ان کی پھوپھی علیمہ خان، قانونی ماہر سلمان اکرم راجہ اور بیرسٹر علی ظفر نے کر دی ہے۔
رہنماؤں نے کہا کہ دونوں بیٹوں کو اپنے والد سے ملاقات کا آئینی اور قانونی حق حاصل ہے، اور اسی مقصد کے تحت رواں ہفتے اسلام آباد ہائی کورٹ میں باضابطہ درخواست دائر کی جائے گی تاکہ اڈیالہ جیل میں ملاقات کی اجازت حاصل ہو سکے۔
علیمہ خان نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:
"جس نے گرفتار کرنا ہے کر لے، وہ آ رہے ہیں۔ وہ یہاں کتنے دن رہیں گے یا کسی تحریک کا حصہ بنیں گے یا نہیں، یہ فیصلہ وہ خود کریں گے۔”
اس موقع پر عمران خان کی بہنوں نے جیل انتظامیہ پر شدید تنقید کرتے ہوئے اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ غفور انجم پر الزام لگایا کہ انہوں نے عمران خان کو "شدید تکالیف” دی ہیں۔
"ہم غفور انجم کو نہیں بھولیں گے، وقت آنے پر ضرور جواب لیں گے،” علیمہ خان اور نورین خان نے کہا۔
سلمان اکرم راجہ اور بیرسٹر علی ظفر نے "توشہ خانہ ٹو” کیس کو کالعدم قرار دینے کا مطالبہ کیا، اور کہا کہ اس کیس کی بنیاد صرف مفروضوں پر ہے۔
انہوں نے دوٹوک مؤقف اپناتے ہوئے کہا:
"پی ٹی آئی کے واحد لیڈر عمران خان ہی ہیں، باقی تمام قیاس آرائیاں ہیں۔”
دریں اثنا پی ٹی آئی کی رہنما شاندانہ گلزار نے ایک انٹرویو میں اعلان کیا ہے کہ
"پانچ اگست کو بھرپور احتجاج ہوگا، خیبر پختونخوا کے عوام عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں۔”
ادھر فیصل چوہدری نے عمران خان اور علیمہ خان کے درمیان ناراضی کی خبروں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا:
"یہ ان کا خاندانی معاملہ ہے، ہم اس پر کوئی تبصرہ نہیں کر سکتے۔”
پی ٹی آئی کے سینئر رہنما اسد قیصر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” پر لکھا:
"پریس کانفرنس کرنے والوں کو 9 مئی کے مقدمات میں معاف کرنا انصاف کے دوہرے معیار کی واضح مثال ہے۔”






