پشاور: خیبرپختونخوا حکومت کا ایک اعلیٰ سطحی وفد، مشیر اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف کی قیادت میں چین روانہ ہو گیا ہے، جس کا مقصد چین اور پاکستان کے درمیان مذہبی، سماجی و ثقافتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنا ہے۔ یہ دورہ چینی وزارت خارجہ کی خصوصی دعوت پر "مذہبی سفارتکاری پروگرام” کے تحت کیا جا رہا ہے — ایک ایسا منفرد قدم جو بین المذاہب ہم آہنگی اور بین الاقوامی تعلقات میں ایک نئی مثال قائم کر سکتا ہے۔
مذہبی مکالمہ اور ثقافتی ہم آہنگی کا منفرد موقع
12 رکنی وفد میں مذہبی، سماجی اور علمی حلقوں کی نمائندہ شخصیات شامل ہیں جن میں وزیر مذہبی امور عدنان قادری، وزیر سماجی بہبود قاسم علی شاہ، سینئر سیاستدان سکندر شیرپاؤ، اور ممتاز علمائے کرام و محققین شامل ہیں۔ یہ تنوع اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان اس دورے کو محض رسمی نہیں بلکہ بامقصد اور جامع سفارتی اقدام کے طور پر لے رہا ہے۔
چین کے ساتھ تعلقات کو نئی وسعت
روانگی سے قبل گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر سیف نے کہا کہ وفد بیجنگ، ارومچی اور کاشغر کا دورہ کرے گا، جہاں چینی قیادت، مسلم اسکالرز اور تعلیمی اداروں سے اہم ملاقاتیں ہوں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی اعتماد، ثقافتی تبادلے اور مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دے گا۔
بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص
ماہرین کے مطابق یہ اقدام پاکستان کے بین الاقوامی تشخص کو بہتر بنانے میں معاون ہوگا، خصوصاً ایسے وقت میں جب دنیا بھر میں بین المذاہب مکالمہ اور ثقافتی یکجہتی کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ خیبرپختونخوا حکومت کی اس پہل سے نہ صرف چین بلکہ مسلم دنیا کے ساتھ تعاون کے نئے دروازے کھلنے کی توقع ہے۔
علم و تہذیب کا سفارتی سفر
دورے میں شریک اسلامی تعلیمی اداروں اور تھنک ٹینکس کے نمائندے مشترکہ تحقیقی منصوبوں، علمی تعاون، اور نوجوان نسل میں ہم آہنگی کے فروغ پر بھی تبادلۂ خیال کریں گے، جو مذہبی برداشت اور معاشرتی ہم آہنگی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔






