اہم خبریںدنیا

ڈونلڈ ٹرمپ کا باراک اوباما پر سنگین الزام: "2016 کی انتخابی تحقیقات غداری کے مترادف تھیں”

واشنگٹن: سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر 2016 کے صدارتی انتخابات سے متعلق تحقیقات پر شدید تنقید کرتے ہوئے، سابق صدر باراک اوباما پر "غداری” جیسے سنگین الزامات عائد کر دیے ہیں۔ اُن کا دعویٰ ہے کہ اوباما نے ہیلری کلنٹن اور دیگر کے ساتھ مل کر ان کی صدارت کو سبوتاژ کرنے کی سازش کی۔

"غداری اور بغاوت کی منصوبہ بندی کی گئی” — ٹرمپ
ایک حالیہ بیان میں ٹرمپ نے کہا:

"اب وقت آ گیا ہے کہ ان افراد کے خلاف کارروائی کی جائے جنہوں نے روسی مداخلت کا جھوٹا بیانیہ گھڑا۔ سابق صدر اوباما اس سازش میں براہِ راست شریک تھے — یہ عمل غداری کے زمرے میں آتا ہے۔”

انہوں نے 2016 کے بعد کی تحقیقات کو "حکومت کے خلاف ایک منظم بغاوت” قرار دیا اور کہا کہ:

"یہ سب کچھ میری حکومت کو کمزور کرنے کے لیے جان بوجھ کر کیا گیا۔”

تلسی گبارڈ کی انٹیلی جنس دستاویزات کا دعویٰ
ٹرمپ کے بیان سے کچھ دن قبل سابق ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس تلسی گبارڈ نے دعویٰ کیا تھا کہ:

"اوباما انتظامیہ نے روسی مداخلت سے متعلق ایک جعلی بیانیہ جان بوجھ کر تشکیل دیا تاکہ ٹرمپ کو بدنام کیا جا سکے۔”

اس بیان کو قدامت پسند حلقوں میں خوب پذیرائی ملی، جبکہ مرکزی سیاسی دھارے میں اسے متنازع قرار دیا جا رہا ہے۔

اے آئی ویڈیو پر ہنگامہ
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ ویڈیو شیئر کی جس میں باراک اوباما کو گرفتار ہوتے دکھایا گیا۔ اس ویڈیو نے امریکی سیاسی و صحافتی حلقوں میں شدید ردعمل کو جنم دیا۔ کئی ماہرین نے اسے "غلط معلومات پر مبنی پروپیگنڈا” قرار دیا، اور خدشہ ظاہر کیا کہ ایسی ویڈیوز سے 2024 کے انتخابات میں عوامی تاثر کو گمراہ کیا جا سکتا ہے۔

پس منظر: 2016 کے انتخابات اور تحقیقات
یاد رہے کہ 2016 کے انتخابات میں ٹرمپ نے ہیلری کلنٹن کو غیر متوقع طور پر شکست دی تھی، جس کے بعد امریکی انٹیلی جنس اداروں نے روس کی مبینہ ہیکنگ اور سوشل میڈیا مداخلت پر مبنی رپورٹس جاری کیں۔ انہی رپورٹس کی بنیاد پر مولر رپورٹ سمیت کئی تحقیقات کا آغاز ہوا، جو کئی سالوں تک جاری رہیں۔

سیاسی تقسیم اور آنے والے انتخابات
ٹرمپ کے حالیہ بیانات نے ایک بار پھر امریکی سیاست میں شدید تقسیم کو اجاگر کر دیا ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے تاحال باضابطہ ردعمل نہیں دیا گیا، تاہم مبصرین اس بیان کو ٹرمپ کی 2024 کی انتخابی مہم کا ایک جارحانہ اور متنازعہ پہلو قرار دے رہے ہیں۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button