ڈھاکہ (ویب ڈیسک) – بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ کے نواحی علاقے میں ایک فوجی تربیتی طیارے کے اسکول کی عمارت پر گرنے کے اندوہناک واقعے میں 25 طلبہ اور پائلٹ سمیت 27 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں، جبکہ متعدد زخمی مقامی اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ حادثے کے نتیجے میں ملک بھر میں سوگ اور غصے کی فضا قائم ہو چکی ہے۔
حادثہ کیسے پیش آیا؟
حکام کے مطابق تربیتی طیارہ معمول کی پرواز پر تھا جب اسے تکنیکی خرابی کا سامنا ہوا۔ پائلٹ نے ہنگامی لینڈنگ کی کوشش کی، تاہم طیارہ توازن برقرار نہ رکھ سکا اور ایک اسکول کی چھت سے ٹکرا گیا۔ اُس وقت اسکول میں تعلیمی سرگرمیاں جاری تھیں۔
آگ اور جھلسنے سے اموات
ریسکیو ٹیموں کے مطابق طیارے میں آگ بھڑکنے کے بعد شعلے اسکول کی عمارت میں بھی پھیل گئے، جس سے کئی طلبہ جھلس کر جاں بحق ہوئے۔ زخمیوں میں سے کئی کی حالت اب بھی نازک ہے، اور ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ریاستی سطح پر گہرے رنج کا اظہار
عبوری وزیرِاعظم محمد یونس نے اس سانحے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے "قومی سانحہ” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا:
"ہم اس دکھ کی گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہیں۔ حکومت زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرے گی اور مکمل تحقیقات کر کے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے گا۔”
تحقیقات کا آغاز، فضائی حدود پر سوالات
بنگلہ دیشی فضائیہ، سول ایوی ایشن اتھارٹی اور تحقیقاتی اداروں نے موقع پر پہنچ کر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثے کی بنیادی وجہ طیارے میں فنی خرابی بتائی جا رہی ہے، تاہم حتمی رپورٹ آنے تک قیاس آرائیوں سے گریز کیا جا رہا ہے۔
عوامی حلقوں کی جانب سے شہری آبادی کے اوپر تربیتی پروازوں پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے، اور یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ اسکول جیسے حساس علاقوں کے قریب اس نوعیت کی پروازیں کیوں ہو رہی تھیں۔
تجزیہ: سبق آموز المیہ
یہ واقعہ صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ فضائی تربیت کے نظم و ضبط، تکنیکی نگرانی اور شہری علاقوں میں حفاظتی اقدامات پر نظرثانی کا تقاضا بھی کرتا ہے۔ بچوں کی جانوں کا ضیاع ایک ایسا زخم ہے جو قوم کے دل میں ہمیشہ تازہ رہے گا۔






