اہم خبریںتازہ تریندنیا

ایران کی یورپی ممالک کے ساتھ جوہری مذاکرات پر آمادگی، اہم پیشرفت کی امید

تہران:
ایران نے اپنے جوہری پروگرام سے متعلق تین یورپی ممالک—برطانیہ، فرانس اور جرمنی—کے ساتھ مذاکرات کے لیے اصولی آمادگی ظاہر کر دی ہے، جو خطے میں سفارتی عمل کی بحالی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق یہ بات چیت آئندہ ہفتے متوقع ہے، تاہم مذاکرات کے مقام اور تاریخ پر تاحال مشاورت جاری ہے۔ یہ پیشرفت ایرانی پاسدارانِ انقلاب سے منسلک نیوز ایجنسی نے باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کی ہے۔

ذرائع کے مطابق ایران اور یورپی ممالک کے درمیان بات چیت کی بحالی پر اصولی اتفاق رائے ہو چکا ہے، جس کا مقصد موجودہ کشیدگی کو کم کرنا اور دوبارہ اعتماد کی فضا بحال کرنا ہے۔

یورپی ممالک کی جانب سے بھی اس عمل کو مثبت پیشرفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم ان کی کوشش ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے ماضی میں معطل کی گئی پابندیوں کو دوبارہ فعال کرنے کے امکان کو بھی مدنظر رکھا جائے۔ تینوں یورپی ممالک "اسنیپ بیک میکانزم” کے استعمال پر غور کر رہے ہیں تاکہ ایران کو امریکہ کے ساتھ تعطل کا شکار مذاکرات میں واپس لایا جا سکے۔

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ ایران کی جوہری تنصیبات پر اسرائیل اور امریکہ کے مبینہ حملوں کے بعد تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے تھے۔

باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران اقوام متحدہ کی ممکنہ پابندیوں سے بچنے اور سفارتی محاذ پر خود کو تنہا ہونے سے روکنے کے لیے یورپی ممالک سے مذاکرات پر آمادہ ہوا ہے، تاہم اس نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام پر کسی بھی قسم کی رعایت دینے پر تیار نہیں۔

تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگرچہ فریقین کے درمیان اختلافات اب بھی موجود ہیں، تاہم اس بات چیت کی بحالی خطے میں تناؤ کم کرنے اور عالمی سطح پر استحکام لانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button