پشاور: خیبرپختونخوا میں آئینی اور جمہوری عمل کی بحالی کی جانب ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں مخصوص نشستوں پر منتخب 25 اراکین اسمبلی نے گورنر ہاؤس پشاور میں ہونے والی پروقار تقریب میں باقاعدہ حلف اٹھا لیا۔ حلف برداری کے بعد یہ ارکان اب سینیٹ انتخابات میں حصہ لینے کے اہل ہو گئے ہیں۔
تقریب میں گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے نو منتخب ارکان سے حلف لیا، جبکہ اہم سیاسی رہنما اور اراکین اسمبلی بھی شریک ہوئے، جن میں امیر مقام، اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد، مولانا لطف الرحمان، محمد علی باچا، رضا اللہ چغرمٹی، ملک طارق اور جلال خان شامل تھے۔
عدالتی حکم پر عملدرآمد
یہ حلف برداری اس وقت ممکن ہو سکی جب پشاور ہائیکورٹ نے اپوزیشن جماعتوں کی درخواست پر فوری کارروائی کرتے ہوئے چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ کے حکم کے تحت گورنر کو بطور مجاز شخصیت مقرر کیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں زور دیا تھا کہ سینیٹ انتخابات سے قبل منتخب اراکین کا حلف لینا آئینی تقاضہ ہے، جس میں مزید تاخیر ناقابل قبول ہے۔
کون کون حلف لے چکا؟
مخصوص نشستوں پر منتخب ہونے والے 25 اراکین میں 21 خواتین اور 4 اقلیتی نمائندے شامل ہیں، جن کا تعلق مختلف اپوزیشن جماعتوں سے ہے، جن میں:
مسلم لیگ (ن)
جمعیت علمائے اسلام (ف)
پاکستان پیپلز پارٹی
عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی)
پی ٹی آئی پارلیمنٹیرینز
سیاسی منظرنامے میں بڑی تبدیلی کا امکان
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، ان ارکان کی حلف برداری سے خیبرپختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن کی پوزیشن مضبوط ہو گئی ہے، اور سینیٹ انتخابات میں ممکنہ طور پر نئی سیاسی صف بندیاں سامنے آ سکتی ہیں۔ اس عمل کو سیاسی و آئینی حلقوں میں جمہوریت کی فتح اور آئین کی بالادستی سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔





