پشاور: جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے خیبرپختونخوا حکومت کو آئینہ دکھاتے ہوئے عوامی مسائل پر توجہ دینے کی پُرزور اپیل کی ہے۔ پشاور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے صوبے کی تعلیمی، مالی اور انتظامی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
حافظ نعیم نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت ہے، کیونکہ موجودہ پالیسیاں صوبے کو تیزی سے زوال کی جانب لے جا رہی ہیں۔
تعلیم پر تنقید اور عملی مثال
اپنے خطاب میں حافظ نعیم نے کہا:
"70 فیصد بچوں کو معیاری تعلیم میسر نہیں، اور حکومت آئی ٹی کے شعبے میں مکمل خاموش ہے۔”
انہوں نے جماعت اسلامی کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی سطح پر 10 ہزار بچوں کو آئی ٹی کورسز کروائے، تو حکومت ایسا کیوں نہیں کر سکتی؟
"مفادات پر سب متحد، عوامی فلاح پر خاموشی”
حافظ نعیم نے سیاسی جماعتوں اور حکومتی حلقوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا:
"مفادات کے لیے سب اکٹھے ہو جاتے ہیں، لیکن جب بات تعلیم، صحت یا عام آدمی کی ہوتی ہے تو سب خاموش ہو جاتے ہیں۔”
آؤٹ سورسنگ اور جامعات کا بحران
انہوں نے خبردار کیا کہ صوبائی حکومت سرکاری اسکولوں کو آؤٹ سورس کرنے کی تیاری کر رہی ہے، جو عوامی تعلیم کے لیے خطرناک رجحان ہو سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے خیبرپختونخوا کی جامعات میں بڑھتے ہوئے مالی بحران پر بھی روشنی ڈالی، جو اعلیٰ تعلیم کے مستقبل پر سوالیہ نشان ہے۔
سیاسی مبصرین کا ردعمل
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، حافظ نعیم الرحمان کا خطاب خیبرپختونخوا حکومت کے لیے ایک سخت لیکن اصلاحی پیغام ہے۔ ان کے نکات حکومت کو آئینی اور عملی سطح پر پالیسیوں پر نظرثانی پر مجبور کر سکتے ہیں، خاص طور پر تعلیم اور ٹیکنالوجی جیسے اہم شعبوں میں۔





