اسلام آباد:
ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر ردعمل کو مدنظر رکھتے ہوئے وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے وضاحت دی ہے کہ یہ اقدام مالی مجبوریوں کے تحت اٹھایا گیا، تاکہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ساتھ طے شدہ معاہدے متاثر نہ ہوں۔
اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر کا کہنا تھا:
"ہم جانتے ہیں کہ عوام مہنگائی سے پریشان ہیں، لیکن اگر ہم پیٹرول کی قیمتیں نہ بڑھاتے تو آئی ایم ایف پروگرام پر منفی اثر پڑ سکتا تھا، جو معیشت کے لیے مزید خطرناک ہوتا۔”
روپے کی قدر میں کمی بھی ایک بڑا عامل
علی پرویز ملک نے مزید بتایا کہ روپے کی قدر میں دو روپے کی حالیہ کمی نے بھی قیمتوں پر اثر ڈالا ہے، کیونکہ عالمی منڈی میں تیل کی خریداری ڈالر میں کی جاتی ہے۔ اس فرق کا بوجھ حکومت یا صارفین کو برداشت کرنا ہوتا ہے — اور موجودہ مالی حالات میں حکومت کے لیے سبسڈی دینا ممکن نہیں تھا۔
پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتیں
وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق:
پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے 36 پیسے اضافہ کر کے نئی قیمت 272 روپے 15 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔
ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 11 روپے 37 پیسے اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 284 روپے 35 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
آئی ایم ایف معاہدے کی شرائط کا دباؤ
وزیر پیٹرولیم کا کہنا تھا کہ توانائی شعبہ آئی ایم ایف معاہدے کا ایک حساس جزو ہے، اور قیمتوں پر کنٹرول یا سبسڈی دینے سے مالیاتی اہداف پورے نہیں ہو پاتے۔ "ہمیں ملکی مفاد میں بعض مشکل فیصلے کرنے پڑ رہے ہیں، لیکن اس کا مقصد معیشت کو استحکام دینا ہے،” انہوں نے کہا۔
عوامی اثرات اور حکومتی حکمت عملی
قیمتوں میں اضافے سے جہاں ٹرانسپورٹ اور اشیائے ضروریہ کی لاگت میں اضافہ متوقع ہے، وہیں حکومت کوشش کر رہی ہے کہ ٹارگٹڈ سبسڈی اور معاشی بحالی کے دیگر اقدامات کے ذریعے کم آمدنی والے طبقات کو ریلیف فراہم کیا جائے۔





