قومی ایئر لائن کی بحالی پر وزیر دفاع کا ردعمل: "بانی پی ٹی آئی اور غلام سرور خان قومی جرم کے شریک ہیں”
اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (PIA) پر عائد پابندیوں کا خاتمہ ایک اہم قومی کامیابی ہے، لیکن ماضی کی غلطیوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سابق وزیر ہوا بازی غلام سرور خان کے ساتھ ساتھ بانی پی ٹی آئی بھی ان ’’قومی جرائم‘‘ میں برابر کے شریک تھے۔
قومی ایئر لائن پر پابندی: پس منظر
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ:
"غلام سرور خان نے ادارے کے خلاف جو جرم کیا وہ ذاتی نہیں بلکہ قومی جرم تھا۔ بانی پی ٹی آئی اور غلام سرور خان نے مل کر قومی ایئر لائن کو قبرستان بنا دیا۔”
انہوں نے کہا کہ غلام سرور کے غیرذمہ دارانہ بیانات کے باعث پاکستان کی ایوی ایشن انڈسٹری کو عالمی سطح پر شرمندگی اور پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا، جس سے قومی وقار کو شدید دھچکا پہنچا۔
یورپی پابندی کا خاتمہ، اہم سنگِ میل
وزیر دفاع نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ یورپ اور برطانیہ کی جانب سے قومی ایئر لائنز پر عائد پابندیاں ختم کر دی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا:
"پاکستان کا نام ایئر سیفٹی لسٹ میں دوبارہ آنا ایک سنگِ میل ہے۔ شہباز شریف کی قیادت میں یہ پیش رفت ممکن ہوئی۔”
انہوں نے کہا کہ اب نہ صرف PIA بلکہ ایک نجی ایئر لائن کو بھی برطانیہ کی پروازوں کی اجازت مل گئی ہے، جو پاکستان کی ایوی ایشن ساکھ کی بحالی کا ثبوت ہے۔
اگلا ہدف: نیویارک کی پروازیں بحال کرنا
خواجہ آصف نے کہا کہ حکومت کی اگلی کوشش نیویارک کی پروازیں بحال کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے پاکستان عالمی ریگولیٹرز کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے اور آپریٹنگ لائسنسز کے لیے دوبارہ اپلائی کیا جا رہا ہے۔
شکریہ اور مبارکباد
وزیر دفاع نے برطانوی اور یورپی حکام کا شکریہ ادا کیا اور خصوصی طور پر وزیر ریلوے و ہوا بازی خواجہ سعد رفیق کو خراجِ تحسین پیش کیا:
"سعد رفیق نے تین سال تک اس مسئلے کو مسلسل فالو کیا، اُن کی کوششوں کے باعث پاکستان کی ایوی ایشن کو عالمی سطح پر پذیرائی ملی۔”
نتیجہ
پاکستان کے لیے یہ ایک سفارتی، تکنیکی اور ادارہ جاتی کامیابی ہے جس کے اثرات نہ صرف معاشی میدان میں محسوس کیے جائیں گے بلکہ بین الاقوامی ساکھ کی بحالی میں بھی مدد ملے گی۔






