اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کے خلاف مقدمات میں پیش رفت — عبوری ضمانتیں منسوخ، گرفتاری کے احکامات جاری
اسلام آباد/راولپنڈی/فیصل آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مرکزی رہنما اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان کے خلاف جاری قانونی کارروائیاں ایک اہم موڑ پر پہنچ گئی ہیں، جہاں ملک کی مختلف عدالتوں نے ان کی عبوری ضمانتیں خارج کرتے ہوئے گرفتاری کے احکامات جاری کیے ہیں۔
انسداد دہشت گردی عدالت کا فیصلہ — راولپنڈی میں سخت کارروائی
راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 مئی 2023 کے پرتشدد واقعات کے حوالے سے دس مختلف مقدمات میں عمر ایوب خان کی عبوری ضمانتیں عدم پیروی کی بنیاد پر کالعدم قرار دے دیں۔
عدالت نے پولیس کو حکم دیا ہے کہ وہ عمر ایوب کو گرفتار کر کے فوری طور پر عدالت میں پیش کریں۔
ذرائع کے مطابق ان مقدمات میں عمر ایوب کو مرکزی کردار قرار دیا گیا ہے۔ عدالتی سمن کے باوجود ان کی بارہا غیر حاضری کو ان کے خلاف فیصلہ کن عنصر قرار دیا جا رہا ہے۔
فیصل آباد میں توہین عدالت کا نوٹس — 18 جولائی کو پیشی کا حکم
فیصل آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے بھی عمر ایوب کی عدم حاضری پر سخت ردعمل دیتے ہوئے توہین عدالت کا نوٹس جاری کر دیا ہے۔ عدالت نے سی پی او فیصل آباد کو ہدایت کی ہے کہ عمر ایوب کو 18 جولائی کو عدالت میں ہر صورت پیش کیا جائے۔
الیکشن کمیشن میں نااہلی کی کارروائی — سماعت مؤخر
دوسری جانب الیکشن کمیشن آف پاکستان میں عمر ایوب خان کے خلاف نااہلی کی درخواست پر بھی سماعت ہوئی۔ یہ ریفرنس اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے دائر کیا گیا تھا، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ عمر ایوب آئینی دفعات 62 اور 63 کے تحت صادق اور امین نہیں رہے۔
تاہم عمر ایوب اس سماعت میں بھی پیش نہ ہوئے۔ درخواست گزار بابر نواز خان نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ عوامی اعتماد کے اہل نہیں رہے۔
الیکشن کمیشن حکام نے آگاہ کیا کہ پشاور ہائی کورٹ نے اس معاملے پر حکم امتناع جاری کیا ہے، جس کی سماعت 5 اگست کو ہوگی، اسی بنا پر الیکشن کمیشن نے سماعت مؤخر کر دی۔






