اہم خبریںتازہ تریندنیا

قانون کی حکمرانی اور اصولی مؤقف: برازیلی صدر کی قیادت میں انصاف کا بول بالا

برازیلیا/واشنگٹن: عالمی سیاسی منظرنامے میں نئی ہلچل اُس وقت دیکھی گئی جب امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برازیل پر 50 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دی۔ یہ ردِعمل برازیل کے سابق صدر جائیر بولسونارو کے خلاف جاری عدالتی کارروائی پر سامنے آیا، جسے صدر ٹرمپ نے "سیاسی انتقام” قرار دیا۔

تاہم، برازیل کے موجودہ صدر لولا ڈا سلوا نے واضح اور دوٹوک مؤقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ "قانون سے بالاتر کوئی نہیں” اور ملک میں انصاف کے عمل میں بیرونی مداخلت کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی۔

لولا ڈا سلوا کی قیادت میں برازیل نہ صرف جمہوریت کے اصولوں کی پاسداری کر رہا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی مظلوموں کی آواز بن رہا ہے۔ یاد رہے کہ صدر لولا، فلسطین میں اسرائیلی جارحیت کو نسل کشی قرار دے چکے ہیں، اور عالمی سطح پر انسانی حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والوں میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال سے دنیا بھر میں قانون کی بالادستی، عدالتی خودمختاری اور اخلاقی جرات کے لیے ایک مثبت مثال قائم ہو رہی ہے۔ یہ رویہ عالمی برادری کے لیے ایک یاد دہانی ہے کہ طاقت کے زور پر انصاف کے عمل کو دبانا ممکن نہیں۔

معاشی دباؤ کی دھمکیوں کے باوجود برازیل کی حکومت نے آئینی اداروں کے وقار اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جسے دنیا بھر میں مثبت نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button