اہم خبریںپاکستانتازہ ترینلمحہ با لمحہ

جیل سے بھی لیڈرشپ: عمران خان کا عوامی تحریک کا اعلان، 5 اگست کو تحریک کا نقطۂ عروج ہوگا

راولپنڈی – بانی پاکستان تحریکِ انصاف عمران خان نے جیل سے عوامی احتجاج کی قیادت کا اعلان کر دیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ "میں جیل میں آزاد ہوں، اور باہر سب قید ہیں”۔ عمران خان نے کہا ہے کہ عوام کو اپنے حقوق، جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے باہر نکلنا ہوگا، بالخصوص 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف آواز بلند کرنا ہوگی۔

یہ اہم پیغام عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو میں پہنچایا۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان مکمل طور پر خیریت سے ہیں اور حالات کا حوصلے سے سامنا کر رہے ہیں، لیکن اُنہیں تحریر و مطالعے کی بنیادی سہولیات سے محروم رکھا جا رہا ہے، جو کہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

5 اگست کو تحریک اپنے عروج پر ہوگی
علیمہ خان کے مطابق، بانی پی ٹی آئی نے کہا ہے کہ احتجاجی تحریک 5 اگست کو اپنے نقطۂ عروج پر پہنچے گی — وہ دن جب عمران خان کو جیل میں دو سال مکمل ہو جائیں گے۔ بانی کا کہنا ہے کہ جو افراد اور رہنما اس تحریک کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے، وہ ابھی الگ ہو جائیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ان کی فیملی اور عوامی نمائندے اس جدوجہد میں پوری طرح شامل ہوں گے۔

جمہوریت کی بحالی اور آئین کی بالادستی کے لیے جدوجہد
علیمہ خان نے کہا کہ عمران خان کا موقف واضح ہے: ملک میں آئینی، جمہوری اور قانونی نظام کی بحالی کے بغیر کوئی پائیدار ترقی ممکن نہیں۔ 26ویں ترمیم کے بعد عوام کے حقوق سلب کیے جا رہے ہیں، اور یہ تحریک ان حقوق کی بحالی کے لیے ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی نے حکمتِ عملی تیار کر لی ہے، جو وقت آنے پر عوام کے سامنے لائی جائے گی۔ پارٹی کارکنان، عوام اور قیادت سب کو متحد ہوکر اس تحریک میں کردار ادا کرنا ہوگا۔

قید تنہائی، سہولتوں سے محرومی اور انسانی حقوق کی پامالی
علیمہ خان نے انکشاف کیا کہ عمران خان کو قید تنہائی میں رکھا گیا ہے، ان کا ٹی وی، اخبار اور کتابیں بند کر دی گئی ہیں، اور ان کے ڈاکٹر کو بھی 10 ماہ سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ اسی طرح سابق خاتون اول بشریٰ بی بی کو بھی قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔

خاندانی یکجہتی اور کارکنوں کی جوش و خروش
بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کی جیل آمد پر کارکنان کی بڑی تعداد موجود تھی، جنہوں نے پرجوش نعرے بازی کی۔ پارٹی رہنماؤں بشمول بیرسٹر گوہر، سلمان صفدر اور ظہیر عباس چوہدری نے بھی ملاقات کی۔ علیمہ خان کو ابتدائی طور پر ملاقات سے روک دیا گیا، تاہم ان کے جذبے میں کوئی کمی نہیں آئی۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button