اہم خبریںپاکستانتازہ ترینلمحہ با لمحہ

معاشی بحالی کی جانب اہم قدم: ویمن آنٹرپرینیور فنانس کوڈ کا افتتاح، گورنر اسٹیٹ بینک کا معیشت کی بہتری پر اعتماد

کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملک میں معاشی استحکام اور خواتین کی مالی شمولیت بڑھانے کی ایک اور اہم پیش رفت کرتے ہوئے "ویمن آنٹرپرینیور فنانس کوڈ پاکستان” کا باقاعدہ افتتاح کر دیا۔ اس موقع پر گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، ڈپٹی گورنر سلیم اللہ، ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) کے نمائندے اور ملکی بینکوں کے صدور نے شرکت کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کو حالیہ برسوں میں شدید چیلنجز کا سامنا رہا، تاہم حکومت اور اسٹیٹ بینک کے بروقت اور مشکل فیصلوں کے باعث اب معیشت بحالی کی راہ پر گامزن ہے۔ انہوں نے کہا:

"ہمیں ماضی کی غلطیاں نہیں دہرانیں، یہی وقت ہے کہ ہم پائیدار ترقی کی جانب قدم بڑھائیں۔”

معاشی اشارئیے مثبت سمت میں
گورنر نے بتایا کہ:

مالی سال 2025 میں افراطِ زر 9 سال کی کم ترین سطح پر آ چکا ہے۔

کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر 14 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں۔

شرح مبادلہ مستحکم ہے اور ترسیلات و برآمدات میں بہتری آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مالیاتی اور زری پالیسی کے اشتراک سے معاشی تنزلی پر قابو پایا گیا ہے، اور اب نجی شعبہ سرگرم ہو کر معیار و مسابقت میں اضافہ کر رہا ہے۔

وی فنانس کوڈ: خواتین کی مالی شمولیت میں انقلابی قدم
گورنر جمیل احمد نے "وی فنانس کوڈ” کو پاکستان میں خواتین کی مالی شمولیت کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ:

ملک کی 22 فیصد ورک فورس خواتین پر مشتمل ہے لیکن 52 فیصد خواتین کا بینک اکاؤنٹ نہیں۔

مالی رسائی، آمد و رفت، اور ڈیجیٹل رکاوٹیں خواتین کی معاشی ترقی میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔

وی فنانس کوڈ کے تحت 20 بینک خواتین کی مالی شمولیت کو فروغ دینے کے لیے ایک جامع لائحہ عمل پر کام کریں گے۔

ڈپٹی گورنر اور ADB کی حمایت
ڈپٹی گورنر سلیم اللہ نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک کی کوششوں سے گزشتہ دو دہائیوں میں ملک میں مالی شمولیت 16 فیصد سے بڑھ کر 67 فیصد ہو چکی ہے، تاہم خواتین کی شمولیت میں مزید بہتری کی ضرورت ہے۔

ایشیائی ترقیاتی بینک کی نمائندہ مس کرسٹین نے کہا کہ پاکستان میں خواتین کی مالی شمولیت ابھی ایک تہائی سے بھی کم ہے۔ انہوں نے اسٹیٹ بینک کے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ وی فنانس کوڈ خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے کی سمت ایک مضبوط قدم ہے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button