غزہ میں جاری ظلم پر خاموشی ناقابلِ قبول، وزیر دفاع خواجہ آصف کا مسلم امہ سے تاریخی اقدام کا مطالبہ
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) — پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے غزہ میں جاری انسانی المیے کو سانحہ کربلا سے تشبیہ دیتے ہوئے مسلم دنیا سے فوری اور مؤثر اقدام کی اپیل کی ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا:
“کربلا ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ حق اور باطل کے معرکے میں، اگرچہ آپ تنہا ہوں، تو بھی سچائی اور عظمت کے لیے ڈٹ جانا ضروری ہے۔ نواسہ رسول ﷺ اور ان کے خانوادے نے اسلام کی حرمت کے لیے سب کچھ قربان کیا، مگر افسوس، وہ میدان میں تنہا تھے۔”
انہوں نے کہا کہ آج غزہ میں ایک نیا کربلا برپا ہے، جہاں معصوم بچوں اور مردوں سمیت 70,000 سے زائد مسلمان شہید ہو چکے ہیں، مگر مسلم دنیا کی خاموشی دل دہلا دینے والی ہے۔
"خاموش تماشائی نہیں، فعال آواز بنیں”
خواجہ آصف نے 58 مسلم ممالک کی قیادت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:
“غزہ کے مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کو روکنے کے لیے کوئی تو آواز بلند کرے۔ یہ وقت سفارتی بیانات سے آگے بڑھنے کا ہے۔”
انہوں نے زور دیا کہ او آئی سی اور دیگر اسلامی اتحادوں کو فوری طور پر مشترکہ حکمت عملی اور عملی اقدامات کا اعلان کرنا چاہیے تاکہ نہ صرف جنگ بندی ہو، بلکہ فلسطینی عوام کو انسانی حقوق اور تحفظ بھی مل سکے۔
اسرائیل کی بمباری جاری، جنگ بندی پر مذاکرات متوقع
اس موقع پر اطلاعات کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں اسرائیلی بمباری سے مزید 78 فلسطینی شہید ہوئے ہیں، جبکہ دوسری جانب اسرائیلی وفد قطر روانہ ہو رہا ہے تاکہ جنگ بندی سے متعلق مذاکرات دوبارہ شروع کیے جا سکیں۔





