حکومت کی ٹیکس وصولیوں میں نمایاں کمی، بجلی کے بلوں سے 490 ارب روپے وصول
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) — مالی سال 25-2024ء کے دوران حکومت نے بجلی کے بلوں کے ذریعے صارفین سے وِد ہولڈنگ ٹیکس اور جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کی مد میں مجموعی طور پر 490 ارب روپے جمع کیے، جو گزشتہ مالی سال کے 600 ارب روپے کے مقابلے میں 110 ارب روپے کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس کمی کی اہم وجوہات میں گھریلو صارفین کی سولر سسٹمز کی جانب بڑھتی دلچسپی اور صنعتی شعبے کی کمزور کارکردگی شامل ہیں، جس کے باعث بجلی کی مجموعی کھپت اور بلوں کے ذریعے ٹیکس آمدن دونوں متاثر ہوئے۔
توانائی کھپت میں 3.6 فیصد کمی
اقتصادی جائزے کے مطابق جولائی تا مارچ 2025ء کے دوران ملک بھر میں بجلی کی مجموعی کھپت 3.6 فیصد کم ہو کر 80,111 گیگا واٹ آور رہ گئی، جبکہ گزشتہ برس اسی عرصے میں یہ 83,109 گیگا واٹ آور تھی۔
بجلی کی کھپت میں اس کمی کی وجوہات میں:
توانائی بچت اقدامات
مہنگی بجلی
آف گرِڈ سولر حل کا استعمال
صنعتی سرگرمیوں میں کمی
شامل ہیں۔
گھریلو صارفین کا حصہ بڑھا، صنعتی شعبہ متاثر
رپورٹ کے مطابق گھریلو شعبے کا بجلی کی کھپت میں حصہ 47.3 فیصد سے بڑھ کر 49.6 فیصد ہو گیا، یعنی 39,728 گیگا واٹ آور، جبکہ صنعتی شعبے کی کھپت میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی جو 28,830 GWh سے گھٹ کر 21,082 GWh رہ گئی۔
تنخواہ دار طبقے سے ریکارڈ ٹیکس وصولی
دوسری جانب، ایف بی آر کے عبوری اعداد و شمار کے مطابق تنخواہ دار طبقے نے مالی سال 2024-25 میں 552 ارب روپے ٹیکس ادا کیا، جو پچھلے سال کی 367 ارب روپے کی ادائیگی سے 185 ارب روپے زیادہ ہے۔ یہ اضافہ حکومتی محصولات میں ایک مثبت پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
ریئل اسٹیٹ سیکٹر سے بھی قابل ذکر آمدن
ایف بی آر نے پراپرٹی کی خرید و فروخت پر مجموعی طور پر 235 ارب روپے کا ٹیکس حاصل کیا، جن میں:
118 ارب روپے انکم ٹیکس آرڈیننس کی شق 236C کے تحت
117 ارب روپے شق 236K کے تحت جمع کیے گئے۔
مجموعی جائزہ
بجلی کی کھپت میں کمی اور صارفین کا سولر سسٹمز کی طرف جھکاؤ حکومت کی ٹیکس پالیسیوں کے لیے ایک اہم چیلنج بن کر سامنے آیا ہے، تاہم تنخواہ دار طبقے اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر سے حاصل ہونے والی بڑھتی ہوئی آمدن حکومت کے مالی استحکام کی سمت میں ایک امید افزا پہلو ہے۔






