لیاری سانحہ: بغدادی میں 5 منزلہ عمارت گرنے سے 14 افراد جاں بحق، ریسکیو آپریشن جاری
کراچی: لیاری کے علاقے بغدادی میں جمعہ کی صبح افسوسناک واقعے میں 5 منزلہ رہائشی عمارت گرنے سے کم از کم 14 افراد جاں بحق ہو گئے، جن میں تین خواتین اور ایک بچہ بھی شامل ہے۔ ملبے تلے دبے مزید 25 سے 30 افراد کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق اب تک 9 زخمیوں کو ملبے سے نکالا جا چکا ہے، جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ عمارت میں 6 خاندان مقیم تھے اور ہر منزل پر 3 پورشن بنائے گئے تھے۔
عمارت پہلے ہی مخدوش قرار دی جا چکی تھی
حکام کے مطابق یہ عمارت 3 سال قبل مخدوش قرار دی گئی تھی، تاہم نہ تو مکینوں نے اسے خالی کیا اور نہ ہی متعلقہ اداروں نے بروقت کارروائی کی۔ ڈپٹی کمشنر ساؤتھ جاوید کھوسو کا کہنا ہے کہ 2022، 2023 اور 2024 میں بارہا نوٹس جاری کیے گئے، لیکن عمارت کو خالی نہیں کرایا جا سکا۔
متاثرہ عمارت کے ساتھ متصل دو دیگر عمارتوں کو بھی احتیاطاً خالی کرا لیا گیا ہے، جب کہ علاقے میں بجلی اور گیس کی لائنیں منقطع کر دی گئی ہیں تاکہ مزید نقصان سے بچا جا سکے۔
ریسکیو آپریشن میں مشکلات، بھاری مشینری استعمال ہو رہی ہے
ریسکیو اداروں، فائر بریگیڈ اور ایدھی فاؤنڈیشن سمیت مختلف ادارے امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ تاہم موبائل سگنلز کی عدم دستیابی اور تنگ گلیوں کی وجہ سے ریسکیو آپریشن میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ عمارت کا ملبہ ہٹانے کے لیے ہیوی مشینری بھی استعمال کی جا رہی ہے۔
کمشنر کراچی سید حسن نقوی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ریسکیو آپریشن میں 24 گھنٹے لگ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مخدوش عمارتوں کے مکینوں کو خود محفوظ مقامات پر منتقل ہونا چاہیے، کیونکہ قانونی طور پر زبردستی خالی کرانا مشکل ہوتا ہے۔
غیر قانونی تعمیرات اور نگرانی پر سوالات
یہ سانحہ ایک بار پھر شہر میں غیر قانونی تعمیرات، ناقص تعمیراتی معیار اور متعلقہ اداروں کی غفلت کو اجاگر کر رہا ہے۔ ماہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سمیت متعلقہ اداروں کی کارکردگی کا ازسرنو جائزہ لیا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے حادثات سے بچا جا سکے۔
متاثرہ خاندانوں کے ساتھ اظہار ہمدردی کرتے ہوئے شہریوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ مخدوش عمارتوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے اور ذمہ داران کو کٹہرے میں لایا جائے۔






