اہم خبریںپاکستانتازہ ترینلمحہ با لمحہ

قومی سیاست میں اصولوں کی بالادستی، این آر او سے انکار اور جمہوری اقدار کا اظہار

اسلام آباد – قومی اسمبلی میں حکومت اور اپوزیشن اراکین کی گفتگو سے یہ واضح ہوا ہے کہ پاکستان کی سیاسی قیادت آئینی دائرے میں رہتے ہوئے ملکی معاملات حل کرنے کی خواہاں ہے۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں نے این آر او کی سیاست کو مسترد کرتے ہوئے جمہوری عمل کی شفافیت پر زور دیا ہے۔

حکومت کی مؤقف: این آر او کی کوئی پیشکش نہیں
وزیر مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چوہدری نے کہا کہ:

"بانی پی ٹی آئی کی جانب سے علی امین گنڈاپور اور دیگر ذرائع سے این آر او کی خواہش کے اشارے ملے، مگر حکومت نے کبھی این آر او کی پیشکش نہیں کی۔ قانون کے مطابق فیصلے عدالتوں نے کرنے ہیں، نہ کہ مفاہمتوں کے ذریعے۔”

پی ٹی آئی کا مؤقف: بانی پی ٹی آئی نے ہر خصوصی رعایت کو مسترد کیا
اسمبلی میں پی ٹی آئی کے چیف وہپ عامر ڈوگر نے بتایا کہ:

"بانی پی ٹی آئی کو جیل جانے سے پہلے اور بعد میں بھی بیرونِ ملک روانگی یا ہاؤس اریسٹ کی متعدد پیشکشیں ہوئیں، لیکن انہوں نے سب کو مسترد کر دیا۔”

ان کا کہنا تھا کہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اپنے مؤقف پر قائم ہیں اور قانونی عمل کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

پیپلز پارٹی: کابینہ میں شمولیت کا فی الحال کوئی ارادہ نہیں
اس موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی ناز بلوچ نے واضح کیا کہ:

"فی الوقت ہماری جماعت وفاقی کابینہ میں شامل ہونے کا ارادہ نہیں رکھتی۔ ہم پارلیمان میں رہ کر عوامی مفادات کی نگرانی کا کردار ادا کریں گے۔”

اہم نکات:
این آر او کی سیاست کا دو طرفہ انکار

سیاسی قائدین کا آئینی اور قانونی عمل پر اعتماد

اختلافات کے باوجود جمہوری روایتوں کا احترام

پیپلز پارٹی کا کابینہ سے دور رہنے کا فیصلہ – جمہوری چیک اینڈ بیلنس کا مظہر

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button