لندن: وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے قومی دفاع کو ترجیح دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ برطانیہ 2035 تک اپنی مجموعی قومی پیداوار (GDP) کا 5 فیصد قومی سلامتی پر خرچ کرے گا۔ یہ اہم اعلان نیٹو سربراہی اجلاس سے ایک روز قبل سامنے آیا ہے، جس کا مقصد بدلتے عالمی حالات میں یورپ کی دفاعی خودمختاری کو مضبوط کرنا ہے۔
اس فیصلے کو دفاعی اور قومی سلامتی کے میدان میں ایک "نئے وژن” کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو نہ صرف عسکری میدان کو تقویت دے گا بلکہ سائبر، توانائی، معیشت اور بنیادی ڈھانچے جیسے شعبوں میں بھی قومی سلامتی کو یقینی بنائے گا۔
دو حصوں پر مشتمل جامع حکمت عملی
وزیر اعظم نے وضاحت کی کہ 5 فیصد ہدف کو دو اہم حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے:
3.5 فیصد: روایتی دفاعی ضروریات جیسے مسلح افواج، جدید ہتھیاروں اور جنگی تیاریوں کے لیے مختص کیا جائے گا۔
1.5 فیصد: وسیع تر قومی سلامتی کے لیے، جس میں سائبر سیکیورٹی، توانائی کا تحفظ، اقتصادی بحران سے نمٹنے کی صلاحیت اور اہم انفراسٹرکچر شامل ہیں۔
"پورے معاشرے کی سطح پر سلامتی” کا نیا ماڈل
حکام کا کہنا ہے کہ یہ ماڈل برطانیہ کو روایتی جنگی تیاری سے آگے لے جا کر ہر سطح پر سلامتی کے تصور کو فروغ دے گا، جو عالمی خطرات کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہے۔
سیاسی ہم آہنگی اور بین الاقوامی برتری
یہ اعلان نیٹو کے دباؤ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دفاعی اخراجات میں اضافے کے مطالبے کے تناظر میں آیا ہے۔ ٹرمپ بارہا زور دے چکے ہیں کہ نیٹو رکن ممالک کو شراکت داری میں سنجیدگی دکھانی چاہیے۔ نیٹو کے نئے سیکرٹری جنرل مارک روٹے نے بھی رکن ممالک سے 5 فیصد کمٹمنٹ کی اپیل کی ہے۔
لیبر حکومت کی سنجیدگی اور حکمت عملی
چانسلر ریچل ریوز نے کہا ہے کہ لیبر حکومت دفاع کے ساتھ معاشی استحکام کو بھی یکجا رکھنا چاہتی ہے۔ کئی ہفتوں کی مشاورت اور دباؤ کے بعد یہ فیصلہ قومی مفاد میں کیا گیا ہے۔
چین سے تعلقات پر پالیسی اپ ڈیٹ
وزیر اعظم نے یہ بھی اعلان کیا کہ جلد ہی برطانیہ قومی سلامتی کی نئی حکمتِ عملی جاری کرے گا، جس میں چین سے تعلقات پر جامع نظرثانی شامل ہوگی۔ یہ قدم لیبر پارٹی کے منشور کے تحت عالمی معاملات میں برطانیہ کی پوزیشن واضح کرنے کی کوشش ہے۔
یہ قدم نہ صرف برطانیہ کے دفاع کو نئی جہت دے گا، بلکہ عالمی منظرنامے میں برطانیہ کی قیادت کو بھی مستحکم کرے گا۔






