آئیوا: سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود کو امن کے نوبیل انعام کا ایک مضبوط امیدوار قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی قائدانہ حکمت عملی نے دنیا کو کئی ممکنہ جنگوں سے بچایا۔ امریکی قومی دن کی تقریب سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ان کی کوششوں سے پاکستان اور بھارت کے درمیان ایٹمی جنگ کا خطرہ ٹلا، کوسوو اور سربیا میں امن قائم ہوا، جبکہ کانگو اور روانڈا میں کشیدگی کو ختم کیا گیا۔
ٹرمپ نے اپنی تقریر میں کہا: "میں نے کم از کم پانچ ممالک کو جنگ میں جانے سے روکا ہے، یہ سب میرے قیامِ امن کے ویژن کا نتیجہ ہے۔” انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عالمی سطح پر امن کی کوششوں کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے نوبیل انعامات کے انتخاب پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ دنیا شاید ایک ایسے اسکول پروفیسر کو امن کا انعام دے دے گی جسے کوئی نہیں جانتا، لیکن حقیقی کوششوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
تقریر کے دوران صدر ٹرمپ نے اپنی حکومت کی دفاعی کامیابیوں کا بھی ذکر کیا، جن میں ایران کی جوہری تنصیبات کو غیر فعال بنانے اور امریکی فضائیہ کی تاریخی پرواز شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی فوج اس وقت دنیا کی سب سے مضبوط اور جدید ترین فوج ہے، اور امریکی طیارے 37 گھنٹے تک مسلسل پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
سرحدی تحفظ سے متعلق بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے غیر قانونی مہاجرین کے داخلے کو روکنے کے لیے نئے قانون سازی کی تفصیلات بتائیں اور اعلان کیا کہ امریکا کی تاریخ کا سب سے بڑا ڈیپورٹیشن پلان نافذ کر دیا گیا ہے۔
ان کے بقول، "ہم اپنی سرحدوں کو محفوظ بنا رہے ہیں، اور امریکی قوم کو ایک مضبوط، پرامن اور محفوظ مستقبل کی طرف لے جا رہے ہیں۔”






