پشاور/اسلام آباد: ملک میں سیاسی درجہ حرارت میں بتدریج کمی اور جمہوری عمل کو مستحکم بنانے کی جانب ایک اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے تحریک انصاف کو خیبرپختونخوا حکومت کے خلاف کسی بھی عدم اعتماد کی تحریک کا حصہ نہ بننے کی یقین دہانی کرا دی ہے۔
سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ پیشرفت صوبے میں سیاسی استحکام، ترقیاتی عمل کی روانی اور عوامی فلاحی منصوبوں کے تسلسل کے لیے ایک مثبت قدم ہے۔
سیاسی کشیدگی کے بجائے مکالمے کی راہ
دوسری جانب جیل میں قید تحریک انصاف کے 5 سینئر رہنماؤں نے موجودہ سیاسی بحران سے نکلنے کے لیے مذاکرات کو واحد راستہ قرار دے دیا ہے۔
شاہ محمود قریشی، یاسمین راشد، میاں محمود الرشید، اعجاز چوہدری اور عمر سرفراز چیمہ نے ایک مشترکہ خط میں کہا کہ:
"مذاکرات میں بانی تحریک انصاف سمیت تمام گرفتار رہنماؤں کو شامل کیا جانا چاہیے۔ ہم سیاسی حل کے حامی ہیں، مگر پہل حکومت کو کرنی چاہیے۔”
اعتماد کی فضا بحال ہونے کی امید
سیاسی تجزیہ کار اس پیشرفت کو پارلیمانی جمہوریت کی بحالی اور سیاسی افہام و تفہیم کی جانب پیش قدمی قرار دے رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن کا مؤقف سیاسی انتقامی کارروائیوں کے بجائے قومی مفاہمت کی حمایت کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
آئندہ کا لائحہ عمل؟
ذرائع کا کہنا ہے کہ جیل میں موجود پی ٹی آئی رہنماؤں کا یہ مؤقف بانی پی ٹی آئی کی براہ راست مشاورت کے بغیر سامنے آیا، تاہم یہ عندیہ ضرور دیا گیا ہے کہ پارٹی کے اندر نرم رویے اور بات چیت کی فضا بن رہی ہے۔
سیاسی استحکام اور مذاکرات کی طرف یہ رجحان نہ صرف صوبہ خیبرپختونخوا بلکہ پوری قوم کے لیے امید کی کرن ہے، جہاں اختلافات کے باوجود جمہوری اداروں کو مضبوط رکھنے پر اتفاقِ رائے قائم ہو رہا ہے۔





