بین الاقوامی نیوز: تھائی لینڈ کی وزیر اعظم پیتونگاترن شیناوترا کو آئینی عدالت نے عہدے سے معطل کر دیا ہے۔ یہ قدم ایک ایسے تنازعے کے بعد اٹھایا گیا ہے جس میں ان کی ایک فون کال لیک ہوئی، جو کمبوڈیا کے سابق وزیراعظم کے ساتھ کی گئی تھی۔
آئینی عدالت کے مطابق، وزیر اعظم کی معطلی کا حکم درخواست گزار 36 سینیٹرز کی جانب سے دائر کی گئی درخواست کی سماعت کے دوران جاری کیا گیا۔ عدالت نے کہا ہے کہ درخواست پر حتمی فیصلہ ہونے تک پیتونگاترن عہدے سے معطل رہیں گی۔
کیا تھا تنازعہ؟
تھائی سینیٹرز نے وزیر اعظم پر بے ایمانی اور آئینی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔ اس اسکینڈل کی بنیاد ایک لیک ہوئی فون کال ہے جس میں پیتونگاترن شیناوترا کمبوڈیا کی سابق وزیراعظم کے ساتھ تھائی فوج کی کارکردگی پر سخت تنقید کرتی دکھائی دیتی ہیں۔
یہ کال اس وقت کی گئی جب تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کی سرحدی فورسز کے درمیان گزشتہ ماہ جھڑپ ہوئی تھی، جس نے خطے میں کشیدگی کو بڑھا دیا تھا۔
معطلی کے بعد صورتحال
وزیر اعظم کی معطلی کے بعد، تھائی لینڈ کے نائب وزیر اعظم کو عبوری وزیر اعظم مقرر کر دیا گیا ہے، جو آئندہ فیصلہ ہونے تک ملک کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔
وزیر اعظم کا ردعمل
پیتونگاترن شیناوترا نے آئینی عدالت کے فیصلے کو قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے ملک کے لیے بھرپور کام کیا، اور اگر ان کے عمل سے عوام کو کوئی دکھ پہنچا تو وہ معذرت خواہ ہیں۔
یہ واقعہ تھائی لینڈ کی سیاست میں ایک نیا موڑ ہے اور آئندہ دنوں میں اس معاملے میں مزید پیشرفت متوقع ہے۔ سیاسی مبصرین اس کو ملکی سیاسی استحکام کے لیے ایک اہم لمحہ قرار دے رہے ہیں۔





