واشنگٹن – 30 جون 2025
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے متعلق اپنی پالیسی ایک بار پھر دوٹوک الفاظ میں واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ نہ تو ایران سے مذاکرات ہو رہے ہیں اور نہ ہی کچھ پیش کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی انتظامیہ ایران کے حوالے سے کسی نرم رویے کی قائل نہیں اور ملک کے مفاد کا ہر قیمت پر دفاع کیا جائے گا۔
سابقہ حکومت کی پالیسی پر شدید تنقید
صدر ٹرمپ نے سابق امریکی صدر باراک اوباما کی ایران پالیسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا:
"میں اوباما نہیں جو ایران کو اربوں ڈالر دے، وہ معاہدہ انتہائی احمقانہ تھا۔”
انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت نے ایرانی جوہری تنصیبات کو مکمل طور پر نشانہ بنایا اور محدود کیا ہے، اور وہ ایران کے ساتھ کسی قسم کے معاہدے یا مالی رعایت کے حق میں نہیں ہیں۔
سی این این کی رپورٹ کی سخت تردید
ایک امریکی میڈیا ادارے سی این این کی جانب سے شائع کردہ رپورٹ، جس میں کہا گیا تھا کہ امریکہ ایران کو 30 ارب ڈالر سول جوہری مقاصد کے لیے دے گا، صدر ٹرمپ نے اسے غلط اور بے بنیاد قرار دے کر سختی سے مسترد کر دیا۔
انہوں نے کہا:
"میرا مؤقف ایران کے بارے میں بالکل واضح ہے، میں انہیں کچھ بھی پیش نہیں کر رہا۔”
قومی سلامتی اولین ترجیح
صدر ٹرمپ کے حالیہ بیانات سے ایک مرتبہ پھر یہ بات سامنے آتی ہے کہ ان کی حکومت امریکی سلامتی، خودمختاری اور بین الاقوامی اصولوں پر کسی قسم کی سودے بازی کے حق میں نہیں ہے۔ ان کا سخت مؤقف ان حلقوں کے لیے ایک پیغام ہے جو امریکہ کو ایک بار پھر غیر یقینی اور کمزور خارجہ پالیسی کی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔
خلاصہ:
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دوٹوک اور واضح مؤقف امریکہ کی خودمختار خارجہ پالیسی اور قومی مفاد کے تحفظ کا عکاس ہے۔ ایران کے ساتھ نہ کوئی خفیہ معاہدہ ہے نہ رعایت، اور اس پالیسی سے عالمی سطح پر امریکہ کا مضبوط مؤقف اجاگر ہوتا ہے۔





