یروشلم – اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو کے خلاف جاری کرپشن ٹرائل کو یروشلم ڈسٹرکٹ کورٹ نے دو ہفتے کے لیے مؤخر کر دیا ہے، عدالت نے یہ فیصلہ نیتن یاہو کے سفارتی اور قومی سلامتی سے متعلق اہم مصروفیات کے باعث ان کی حاضری سے استثنیٰ کی بنیاد پر کیا۔
عدالتی فیصلے کے ساتھ ہی یہ معاملہ بین الاقوامی سطح پر بھی توجہ کا مرکز بن گیا، خاص طور پر اس وقت جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیتن یاہو کے خلاف مقدمات کو "سیاسی انتقام” قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف الزامات کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ ٹرمپ کے بیان کے بعد اسرائیلی عدالت کی جانب سے یہ فیصلہ سامنے آیا، جس میں یہ عندیہ بھی دیا گیا کہ امریکی امداد کا فیصلہ ممکنہ طور پر مقدمے کے نتیجے سے مشروط ہو سکتا ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ دو روز قبل عدالت نے نیتن یاہو کی جانب سے سماعت مؤخر کرنے کی پہلی درخواست مسترد کر دی تھی۔ تاہم، موجودہ درخواست میں دی گئی نئی سفارتی اور قومی سلامتی سے متعلق وجوہات کو عدالت نے تسلیم کر لیا، جس کے باعث سماعت میں تاخیر ممکن ہوئی۔
نیتن یاہو پر تین مختلف مقدمات میں رشوت، دھوکہ دہی اور اعتماد شکنی جیسے سنگین الزامات عائد ہیں۔ ان الزامات نے ان کی سیاسی ساکھ کے ساتھ ساتھ اسرائیلی حکومت کے استحکام پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس مقدمے کی آئندہ پیش رفت نہ صرف اسرائیلی سیاست بلکہ بین الاقوامی سفارتی تعلقات پر بھی اثرانداز ہو سکتی ہے۔






