پشاور / سوات: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کی ہدایت پر دریائے سوات کے کناروں پر غیر قانونی تجاوزات کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ کے ترجمان کے مطابق یہ آپریشن ضلعی انتظامیہ، پولیس اور دیگر متعلقہ محکموں کی مشترکہ کوششوں سے جاری ہے، اور کسی قسم کی نرمی برتنے کا کوئی امکان نہیں۔ ترجمان نے واضح کیا کہ غیر قانونی مائننگ کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے اور اس میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔
عوامی تحفظ اولین ترجیح
یہ فیصلہ دو روز قبل دریائے سوات میں 12 قیمتی جانوں کے ضیاع کے افسوسناک واقعے کے بعد سامنے آیا، جس پر وزیراعلیٰ نے فوری ایکشن لیتے ہوئے تین روز میں تمام غیر قانونی تعمیرات ہٹانے کی ہدایت جاری کی تھی۔
وزیر اعلیٰ نے ایک اہم اجلاس میں تمام ہوٹلز کی باقاعدہ رجسٹریشن کا فیصلہ بھی کیا ہے تاکہ آئندہ کے لیے بہتر نگرانی اور حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جا سکیں۔
دریا کے کناروں پر حفاظتی دیواروں کی تعمیر کا آغاز
حکام کے مطابق سوات دریا کے کناروں پر تحفظی دیواروں (Protective Barriers) کی تعمیر بھی شروع ہو چکی ہے، جو نہ صرف مستقبل میں سیلاب جیسے خطرات سے بچاؤ میں مدد دے گی بلکہ ماحولیاتی تحفظ کے لیے بھی اہم قدم ہے۔
آپریشن کا دائرہ کار دیگر علاقوں تک بھی پھیلایا جائے گا
حکومت نے اعلان کیا ہے کہ سوات دریا کے بعد یہ آپریشن دیگر ندی نالوں اور دریاؤں تک بھی وسعت دی جائے گی تاکہ پورے صوبے میں ماحولیاتی توازن اور انسانی جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
یہ اقدام حکومت خیبر پختونخوا کی طرف سے ایک اہم پیش رفت ہے، جو ماحولیاتی تحفظ، انسانی سلامتی، اور قانون کی بالادستی کے حوالے سے واضح عزم کی عکاسی کرتا ہے۔





