وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر شدید ردعمل، قانونی اقدامات کی دھمکی
راولپنڈی: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے اڈیالہ جیل میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے سخت قدم اٹھانے کی تنبیہ کر دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پارٹی قیادت کا اپنے بانی سے ملاقات کرنا آئینی اور سیاسی حق ہے، جس سے انکار آئین و قانون کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔
علی امین گنڈاپور، عمر ایوب اور جاوید ہاشمی سمیت کئی پارٹی رہنماؤں کو طویل انتظار کے باوجود عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے واضح کیا کہ ملاقات کے لیے ہائیکورٹ کے احکامات کی روشنی میں باقاعدہ فہرست جمع کروائی گئی تھی، مگر اس کے باوجود رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔
انہوں نے کہا، "عمران خان سے ملاقات نہ کر کے کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟ جب آپ قانون پر عمل نہیں کریں گے تو ہمیں سخت موقف اپنانے پر مجبور ہونا پڑے گا۔”
وزیراعلیٰ گنڈاپور نے اس موقع پر فنانس کمیٹی کے اجلاس کا بائیکاٹ کرنے اور مستقبل میں IMF سے متعلق اہم معاملات میں عدم تعاون کی دھمکی بھی دی۔ ان کا کہنا تھا، "اگر ہمارے آئینی حقوق کو پامال کیا گیا تو ہم کسی بھی مالیاتی فورم کا حصہ نہیں بنیں گے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ تحریک انصاف نے بجٹ اس لیے منظور کیا کہ آئینی بحران سے بچا جا سکے۔ "عمران خان کا مؤقف بجٹ پر سننا ان کا حق ہے، اور جب وہ کہیں گے، ہم خیبر پختونخوا اسمبلی تحلیل کر دیں گے۔”
علی امین گنڈاپور نے اس بات پر زور دیا کہ وہ عمران خان سے ہر ہفتے ملاقات کے خواہاں ہیں اور ان کے پاس اس حوالے سے عدالت کا حکم نامہ بھی موجود ہے، مگر انہیں دو، دو ماہ تک ملاقات سے روکا جاتا ہے۔ "ہم اپنے قائد کے لیے کھڑے ہیں، جتنی سکت ہے لگائیں گے، سازشیں ناکام ہوں گی اور ملاقات ہو کر رہے گی۔”
تحریک انصاف کی قیادت کی جانب سے اس مؤقف کے بعد جمہوری، قانونی اور سیاسی حلقوں میں اس معاملے پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے کہ سیاسی قائدین کو ان کے قانونی حقوق سے محروم رکھنا کس حد تک جائز ہے۔






