اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ پارٹی قیادت سے رابطے محدود ہونے کے باعث وہ اور ان کے ساتھی فی الحال مشاورت یا پالیسی سازی کا حصہ نہیں بن پا رہے۔
نجی ٹی وی چینل ’جیو نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے اسد قیصر نے کہا کہ "اڈیالہ جیل میں ملاقاتوں پر پابندیاں اور پیغام رسانی میں رکاوٹوں کے باعث پارٹی پالیسیوں پر مؤثر مشاورت ممکن نہیں ہو رہی”۔
عمران خان سے وفاداری پر کوئی شک نہیں
اسد قیصر نے کہا کہ "عمران خان ہمارے لیڈر ہیں، ہم نے اپنی پوری زندگی ان کے ساتھ گزاری ہے، اور ان کی رہائی کے لیے اپنی فہم و فراست کے مطابق ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں”۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ ان کا کردار اس وقت پالیسی سازی میں محدود ہے، مگر وفاداری اور اعتماد کا رشتہ بدستور قائم ہے۔
پیغام رسانی اور رابطے کا چیلنج
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں پارٹی کی پالیسی سازی "اڈیالہ جیل سے آ رہی ہے” لیکن پیٹرن ان چیف (عمران خان) سے براہ راست رابطے میں مشکلات ہیں۔ ملاقات کرنے والے وکلاء یا افراد کی طرف سے آنے والے پیغامات کی تصدیق اور درستگی بھی ایک اہم چیلنج بن چکی ہے۔
پارٹی کی یکجہتی اور قیادت پر اعتماد برقرار
اسد قیصر نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ حالات میں بھی پارٹی میں اتحاد اور یکجہتی قائم ہے، اور قیادت پر مکمل اعتماد موجود ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جلد صورتحال بہتر ہو گی اور پارٹی رہنماؤں کو قیادت کے ساتھ دوبارہ مؤثر طور پر مشاورت کا موقع میسر آئے گا۔





