اہم خبریںتازہ تریندنیا

ایران: آیت اللّٰہ خامنہ ای کو سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر انتہائی محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) — ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کو خطے میں جاری کشیدگی اور سلامتی کو لاحق بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر ایک انتہائی محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق ان کی سیکیورٹی کے لیے جو خصوصی یونٹ تعینات کیا گیا ہے، اس کی معلومات حتیٰ کہ پاسداران انقلاب جیسے طاقتور ادارے سے بھی خفیہ رکھی گئی ہیں۔

برطانوی اخبار ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق تہران میں اعلیٰ سطحی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ اس خفیہ سیکیورٹی یونٹ میں شامل گارڈز کی انتہائی سخت جانچ اور تربیت کی گئی ہے، تاکہ ان کی صفوں میں کسی بھی ممکنہ دراندازی کا خدشہ ختم کیا جا سکے۔

آیت اللّٰہ خامنہ ای، جو 1989 سے ایران کی قیادت کر رہے ہیں، اس وقت 24 گھنٹے مکمل حفاظتی نگرانی میں ہیں۔ ان کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے حالیہ دنوں میں ان کے تمام الیکٹرانک روابط معطل کر دیے گئے ہیں، تاکہ ان کی لوکیشن کو کسی بیرونی قوت کی جانب سے ٹریک نہ کیا جا سکے۔

ایرانی حکام کے مطابق یہ اقدام صرف احتیاطی نوعیت کا ہے اور سپریم لیڈر کسی بنکر یا پناہ گاہ میں چھپے نہیں ہیں۔ حکومتی ذرائع نے ٹیلی گراف اور نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ "یہ اقدامات دشمن قوتوں کی طرف سے ممکنہ حملے یا انٹیلیجنس مداخلت کے خطرے کے پیش نظر کیے گئے ہیں۔”

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی انٹیلی جنس کی جانب سے ایران کے اندر مختلف سطحوں پر دراندازی کی کوششوں اور سپریم لیڈر کو نشانہ بنانے کی مبینہ دھمکیوں کے بعد یہ حفاظتی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔

تین الگ الگ ذرائع، جو ایران کے "ایمرجنسی وار پلان” سے واقف ہیں، نے تصدیق کی ہے کہ موجودہ فیصلے ملک کی اعلیٰ ترین قیادت کی حفاظت کے لیے کیے گئے ہیں، اور اس یونٹ کا دائرہ اختیار اتنا خفیہ ہے کہ اس کے وجود کا علم محض چند افراد تک محدود ہے۔

خطے میں جاری حالیہ کشیدگی — خصوصاً ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان تعلقات کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورت حال — نے ایرانی قیادت کو غیر معمولی حفاظتی اقدامات پر مجبور کر دیا ہے، تاکہ قومی قیادت اور ریاستی تسلسل کو ہر قیمت پر محفوظ رکھا جا سکے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button