پاکستان کی ایران کے دفاع کی بھرپور حمایت – اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت
اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ایران پر اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے پاکستان نے ایران کے حقِ دفاع کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔
اجلاس میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، تینوں مسلح افواج کے سربراہان، وفاقی وزراء اور اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔ کمیٹی نے مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے اسرائیلی اقدامات کو خطے میں امن کے لیے خطرہ قرار دیا۔
قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیے میں کہا گیا کہ اسرائیلی جارحیت غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز ہے، جس سے ایران اور امریکا کے درمیان جاری تعمیری مذاکرات کو نقصان پہنچا ہے۔ پاکستان نے واضح کیا کہ ایسے اقدامات خطے میں بڑے پیمانے پر تنازعے کو جنم دے سکتے ہیں، جو نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سلامتی کے لیے بھی خطرناک ہیں۔
کمیٹی نے ایران کی جوابی حکمت عملی کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت حقِ دفاع قرار دیتے ہوئے اس کی بھرپور توثیق کی، اور ایرانی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ پاکستانی قیادت نے ایرانی شہریوں کی جانوں کے ضیاع پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔
اجلاس میں فردو، نطنز اور اصفہان میں ایرانی ایٹمی تنصیبات پر حملوں کو IAEA کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔ قومی سلامتی کمیٹی نے عالمی برادری خصوصاً اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی اقدامات کا نوٹس لے اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔
پاکستان نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ علاقائی امن و استحکام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا اور متعلقہ فریقین کے ساتھ رابطے میں رہے گا تاکہ بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل کا حل نکالا جا سکے۔
واضح رہے کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس سے قبل ایران کے سفیر نے وزیراعظم شہباز شریف سے اہم ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعلقات اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔






