اہم خبریںپاکستانتازہ ترینلمحہ با لمحہ

مولانا فضل الرحمان کا امریکہ کو واضح پیغام: ’’دوستی منظور، غلامی نہیں‘‘

مری: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پاکستان کو اپنی خودمختاری، دینی اقدار اور بین الاقوامی اصولوں پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبل امن انعام دینے کی حکومتی تجویز پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے ’’مظلوموں کی توہین‘‘ قرار دیا۔

مولانا فضل الرحمان نے مری کے علاقے پھگواڑی میں جے یو آئی (ف) پنجاب جنرل کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا، "ٹرمپ کے ہاتھ فلسطینیوں، عراقیوں اور افغانوں کے خون سے رنگے ہیں، اور ایران پر حملہ بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔”

انہوں نے واضح کیا کہ جمعیت علمائے اسلام ایران کے ساتھ کھڑی ہے اور مذہب کو سیاست سے الگ کرنے کی کوششوں کی بھرپور مخالفت کرے گی۔ ان کا کہنا تھا، "مدارس ہماری نظریاتی اساس ہیں، ان کی خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں کریں گے، نہ ماضی میں اور نہ اب کسی اسٹیبلشمنٹ نے انہیں قبول کیا ہے۔”

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جے یو آئی (ف) ایک عوامی طاقت ہے اور اسے روکنا عوام کی رائے کو دبانے کے مترادف ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ گزشتہ تین ماہ میں امریکی وفد نے ان سے تین بار ملاقات کی، جس کے بعد انہوں نے ایک سفارتی تقریب میں شرکت بھی کی۔

"ہم امریکہ سے تعلقات کے خواہاں ہیں، مگر غلامی کسی صورت قبول نہیں۔ تعلقات باہمی عزت، معاشی خودمختاری اور عوامی مینڈیٹ کی بنیاد پر ہونے چاہئیں،” انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت کو بھی اب اپنے طرزِ عمل پر نظر ثانی کرنی چاہیے، "مودی کا دور اب ماضی کا حصہ ہے، حالیہ کشیدگی میں پاکستان متحد تھا اور بھارت تنہا رہ گیا۔”

انہوں نے پارٹی کارکنوں پر زور دیا کہ وہ مقامی مسائل کے ساتھ ساتھ قومی اور بین الاقوامی سطح پر بھی اپنی سوچ وسیع کریں اور عوامی خدمت کے جذبے کے ساتھ پارٹی پیغام کو ہر طبقے تک پہنچائیں۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button