اہم خبریںتازہ تریندنیا

ایران کی ایٹمی تنصیبات پر امریکی حملے کی تفصیلات سامنے آ گئیں، اصفحان اہم ترین ہدف قرار

واشنگٹن / تہران: امریکی میڈیا نے ایران کی ایٹمی تنصیبات پر کیے گئے حملے کی مزید تفصیلات جاری کر دی ہیں، جن کے مطابق فردو اور نطنز پر حملے کا وقت ایران کے مقامی وقت کے مطابق رات ڈھائی بجے بتایا گیا ہے۔ حملے میں تیسرا اور غیر متوقع ہدف اصفہان تھا، جسے ماہرین انتہائی حساس اور اہم قرار دے رہے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق فردو اور نطنز پر حملے کی توقع کی جا رہی تھی، مگر اصفحان کا انتخاب غیرمعمولی اور غیر متوقع تھا۔ اصفحان میں واقع ایٹمی تنصیب ایک تحقیقی مرکز کے طور پر کام کر رہی تھی، جہاں یورینیئم کو 60 فیصد تک افزودہ کرنے سے متعلق تجربات کیے جا رہے تھے۔ یہاں ایسی لیبارٹریز بھی قائم تھیں جو ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کے ممکنہ مراحل پر تحقیق کر رہی تھیں۔

اصفہان: ایران کا خفیہ مگر کلیدی مرکز
امریکی میڈیا کے مطابق اصفحان میں قائم ایٹمی کمپلیکس میں تین ہزار سے زائد سائنسدان کام کر رہے تھے، جبکہ وہاں چین کے تیار کردہ تین نیوکلیئر ری ایکٹرز نصب تھے۔ یہ تنصیب نہ صرف ٹیکنالوجی کے اعتبار سے حساس تھی بلکہ اسے روس کے فراہم کردہ دفاعی نظام کے ذریعے محفوظ بنایا گیا تھا، جو کہ اس کی اسٹریٹجک اہمیت کو واضح کرتا ہے۔

فردو: پہاڑوں کے نیچے چھپی ہوئی تنصیب
فردو کی ایٹمی تنصیب کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ یہ قم شہر کے قریب 260 فٹ گہرے پہاڑی سلسلے کے نیچے واقع ہے۔ یہ مقام اپنی مضبوط حفاظت، سخت نگرانی اور محدود رسائی کی وجہ سے ایران کے محفوظ ترین جوہری مراکز میں شمار ہوتا تھا۔

عالمی معائنہ کاروں کو اصفحان کی سرگرمیوں کا علم تھا
میڈیا رپورٹس کے مطابق اصفحان کی جوہری سرگرمیوں سے عالمی جوہری معائنہ کار واقف تھے، اور یہ تنصیب ایران کے اس نیٹ ورک کا حصہ تھی جس پر امریکا اور عالمی طاقتیں عرصے سے تشویش کا اظہار کرتی رہی ہیں۔

حملے کے بعد خطے میں بے یقینی کی فضا
ایرانی جوہری تنصیبات پر اچانک اور ہمہ جہتی حملوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کی نئی لہر دوڑ گئی ہے، جبکہ عالمی برادری صورتحال کی سنگینی کو مدِنظر رکھتے ہوئے فوری سفارتی اقدامات پر غور کر رہی ہے۔

مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button